.

صیدا میں فرقہ وارانہ فسادات کا منصوبہ حزب اللہ نے تیار کیا تھا: فواد سینیورہ

شیخ الاسیر کی غلطی نے جلتی پے تیل کا کام کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیراعظم فواد سنیورہ نے جنوبی شہر صیدا میں پیش آنے والے پُرتشدد واقعات کی ذمہ داری شیعہ ملیشیا حزب اللہ پرعائد کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صیدا میں فرقہ وارانہ لڑائی کے دوران اگر لبنان کے کسی مسلح گروپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے تو وہ حزب اللہ ہے۔ حزب اللہ کی اس لڑائی کا مقصد راسخ العقیدہ سُنی عالم دین شیخ احمد الاسیر اور ان کے گروپ کو کاری ضرب لگانا تھا۔

بیروت میں اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "پچھلے چند روز کے اخبارات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ صیدا میں کشیدگی کا منصوبہ حزب اللہ نے تیار کیا تھا تا کہ شیخ احمد الاسیر کو جوابی لڑائی کے لیے مجبور کیا جائے۔ اس ضمن میں شیخ اسیر اور ان کے گروپ سے بھی فاش غلطیاں سرزد ہوئی ہیں جس سے شہرمیں فرقہ وارانہ کشیدگی پرجلتی کا کام کیا"۔

خیال رہے کہ ساحلی شہر صیدا اور اس کے نواحی علاقوں میں پچھلے کئی روز سے حزب اللہ اور سنی عالم دین شیخ احمد الاسیر کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ لڑائی کےدوران فوج پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔ فرقہ وارانہ کشیدگی اور دوطرفہ حملوں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ حزب اللہ اور شیخ احمد الاسیر کشیدگی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔ حزب اللہ شامی صدر بشارالاسد کی حامی ہے جبکہ شیخ الاسیر شامی باغیوں کی حمایت کرتے ہوئے صدر اسد کے خلاف تحریک کو "جہاد" قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں کو صدر اسد کے خلاف لڑنے والے انقلابیوں کی مدد کی ہدایت کی ہے۔

درایں اثناء لبنان کے ایک تجزیہ نگار جارج علم نے "العربیہ" سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کی مدد سے صیدا کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق رائے موجود ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ تمام مسلح گروپوں کو غیر مسلح کرنا تنہا فوج کے بس کی بات نہیں۔ کئی مسلح گروپوں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔ جب تک تمام سیاسی جماعتیں متفقہ طورپر فوج کو مسلح عناصر کوغیر مسلح کرنے کا اختیار نہیں دیتیں تنہا فوج کے لیے ایسا کرنا ناممکن ہے۔ جارج نے خدشہ ظاہر کیا کہ صیدا میں کشیدگی کا فوری خاتمہ نہ کیا گیا تو فرقہ وارانہ فسادات کی آگ ملک کے دیگر شہروں تک پھیل سکتی ہے۔

جارج علم کا کہنا تھا کہ لبنان میں صرف حزب اللہ ہی مسلح تنظیم نہیں بلکہ ملک میں کئی دوسرے گروپ بھی موجود ہیں۔ ان سے اسلحہ واپس لینا فوج کے لیے ایک بڑے چیلنج سےکم نہیں ہوگا۔ یہ کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ایک قومی حکومت اس کی منظوری نہیں دیتی۔