.

شام سے اغوا امریکی صحافی کے والدین کی بیٹے کی بازیابی کے لیے اپیل

اوسٹن ٹائز اگست2012ء سے لاپتہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں گذشتہ برس لاپتہ ہونے والے امریکی صحافی اوسٹن ٹائز کے والدین نے "العربیہ الحدث" کے توسط سے اپیل کی ہے کہ جس کسی نے بھی ان کے بیٹے کو اغواء یا گرفتار کیا ہے۔ وہ اسے رہا کر دے یا کم از کم اس کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔

خیال رہے کہ امریکی صحافی 13 اگست2012ء کو دمشق میں داریا کے مقام سے اچانک غائب ہوا اور آج تک اس کے ٹھکانے کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔

ٹائز کے والدین نے بیروت میں "العربیہ الحدث" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی تک انہیں بیٹے کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ اب وہ بیروت میں ہیں اور اپنے مغوی بیٹے کی تلاش یا اس کے بارے میں معلومات کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکی حکومت کا بھرپور تعاون حاصل ہے اور شامی حکام نے بھی اس سلسلے میں معاونت کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے وہ ٹائز کی تلاش میں مدد فراہم کریں گے۔ مغوی صحافی کی والدہ کا کہنا تھا کہ "بیٹے کی گمشدگی کے بعد ہمارا پورا خاندان بکھر چکا ہے"۔

خیال رہے کہ شام میں دو سال قبل صدر بشارالاسد کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت کی تحریک کے دوران ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈالا یا انہیں قتل کردیا گیا ہے۔ اب بھی صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی تعداد شام میں لاپتہ ہے۔ غیرملکی میڈیا کے نمائندوں اورانسانی حقوق کے کارکنوں کے اغواء کا الزام مبینہ طورپر شامی حکومت پرعائد کیا جاتا ہے۔