.

شام میں کردجماعت کے کارکنوں کی فائرنگ سے تین مظاہرین ہلاک

الحکسہ میں صدر بشارالاسد کی حامی کرد جماعت کے خلاف احتجاجی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کرد اکثریتی شمالی ضلع الحکسہ کے قصبے عامودہ میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے کارکنوں نے مظاہرین پرفائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

عامودہ میں مقامی لوگ جمعرات کی رات صدر بشارالاسد کے مخالف بعض کارکنان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے تھے کہ اس دوران پی کے کے کے کارکنوں نے ان کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔انھیں کردستان ورکرز پارٹی سے ملحقہ ڈیمو کریٹک یونین ( پی وائی ڈی) نے گرفتار کر لیا تھا۔اس جماعت کا شام کے شمال میں واقع کرد آبادی والے بیشتر علاقوں پر کنٹرول ہے۔

شامی حزب اختلاف کے کارکنان متعدد مرتبہ ڈیموکریٹک یونین پر صدر بشارالاسد کے ساتھ تعاون کرنے کے الزامات عاید کرچکے ہیں لیکن یہ کرد گروپ ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔الحسکہ میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک میں پیش پیش کارکنان کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی سے تعلق رکھنے والی کردستان ورکرز پارٹی کو ترکی کے علاوہ امریکا اور یورپی یونین نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔اس جماعت سے تعلق رکھنے والے کارکنان ترکی ،عراق اور شام میں موجود ہیں جبکہ پی کے کے کا حال ہی میں ترک حکومت کے ساتھ امن معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت وہ مسلح جدوجہد ترک کردے گی۔