.

عراقی گلیوں میں شامی لڑائی میں 'کام' آنے والوں کی تصاویر کی بھرمار

شامی بروکرز عراقی رضاکاروں کی بھرتی اور تربیت کا انتظام کرتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق کی اپوزیشن کا الزام ہے کہ عراقی رضاکار ہمسایہ ملک شام میں جاری خانہ جنگی میں سرکاری فوج کا ساتھ دے رہے ہیں، لیکن دونوں ملکوں کے سرکاری حلقے ان الزامات کی صحت سے انکار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تاہم حال ہی میں شامی میدان جنگ سے لوٹنے والے چند عراقی شہریوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سیکڑوں عراقی رضاکار جنوبی دمشق میں سیدہ زنیب کے مزار سمیت دیگر اہم مقامات کے دفاع کی خاطر شام میں سرکاری فوج کا ساتھ دے رہے ہیں۔

'العربیہ' ٹی وی نے شامی میدان جنگ سے واپس آنے ابو جعفر نامی رضاکار کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سیکڑوں عراقی شہری شام میں اہل تشیع کے مقدس مقامات اور مزارات کی حفاظت کے لئے شام میں موجود ہیں۔ ان افراد کو میدان جنگ بھیجنے سے قبل باقاعدہ طور پر قائم کیمپوں میں عسکری تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

عراقی گلیاں اور محلوں کے اندر شام میں 'جام شہادت' نوش کرنے والے عراقی شہریوں کی تصاویر بکثرت دیکھی جا سکتی ہیں۔ شام میں کام آنے والے ان افراد کو رپورٹ کے مطابق بعض حلقے ایسے رضاکار جنگجو قرار دیتے ہیں کہ جنہوں نے جان کا نذرانہ پیش کر کے اہل تشیع کے مقدسات کی حفاظت کی۔ انہی حلقوں کے مطابق شامی اپوزیشن شامی مقدسات کو بلا امتیاز تباہ کر رہی ہے جبکہ جیش الحر کے بہ قول ایسے عراقی شہری مذہب کی آڑ لے کر بشار الاسد کی حکومت کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

ابو جعفر کے مطابق عراق میں لڑنے کے خواہمشند افراد سے ملک میں موجود شامی بروکرز کے ذریعے رابطہ کیا جاتا ہے۔ شام جانے والے افراد کو عراق میں ہی تربیت اور ضروری اسلحہ فراہم کر کے محفوظ راستوں سے شامی محاذ پر لڑنے بھیج دیا جاتا ہے۔

یاد رہے شام کے دارلحکومت دمشق کے جنوب میں واقع 'السیدہ زینب' میونسپلٹی اہم اسٹرٹیجک محاذ ہے۔ یہ دمشق کے ان علاقوں کو شہر کے ان محاذ جنگ سے علاحدہ کرتا ہے جہاں پر باغیوں کا کنڑول ہے۔

واضح رہے کہ شامی آبادی میں اہل تشیع کا تناسب صرف 92 فیصد ہے، لیکن اس کے باوجود لبنان اور عراق نے شام میں جاری جنگ کو مذہبی رنگ دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔ اسی مذہبی رنگ نے القصیر اور تلکخ کے سرکاری فوج کے قبضے میں جانے میں اہم کردار ادا کیا جہاں بشار نواز فوج کو حزب اللہ اور ایران کی مکمل مدد حاصل رہی۔