.

لبنانی فوج کی صیدا میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ

شیخ احمد الاسیر کے حامیوں اور فوج کے درمیان لڑائی کے بعد کشیدگی برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی فوجیوں نے جنوبی شہر صیدا میں ایک مسجد کے باہر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر فائرنگ کی ہے۔

صیدا میں اس ہفتے کے دوران شامی صدر بشارالاسد کے مخالف راسخ العقیدہ سنی عالم دین شیخ احمد الاسیر اور لبنانی فوج کے درمیان جھڑپوں میں اٹھارہ فوجیوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوج نے صیدا کے علاقے عبرا میں شیخ الاسیر کی مسجد بلال بن رباح میں ان کے حامیوں کے خلاف کارروائی کی تھی جس کے خلاف آج نماز جمعہ کے بعد شہر کی ایک اور مسجد سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ریلی کے شرکاء جب مسجد بلال بن رباح کے نزدیک پہنچے تو فوجیوں نے انھیں منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کردی۔

لبنانی فوج صیدا میں تعینات ہے اور اس نے شورش زدہ علاقے عبرا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔اس علاقے میں سوموار کو مسلح جھڑپوں میں اٹھارہ لبنانی فوجی اور شیخ الاسیر کے پچاس وفادار ہلاک ہوگئے تھے۔ان خونریز جھڑپوں کے بعد شیخ الاسیر راہ فرار اختیار کر گئے تھے اور ان کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔

لبنانی فوج عبرا اور صیدا کے دوسرے علاقوں میں شیخ اسیر کے حامیوں کی تلاش میں چھاپہ مار کارروائیاں کررہی ہے اور اس نے ایک سو دس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔شیخ الاسیر نے اپنے حامیوں کے خلاف کارروائی کے بعد لبنانی فوج کو فرقہ وارانہ قرار دیا اور کہا کہ فوج حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ کی حمایت کررہی ہے اور ہم پر حملے کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ شیخ احمد الاسیر شامی صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار اہل سنت جنگجوؤں کے حامی ہیں اور انھوں نے ماضی میں اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ شام میں باغی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر اسدی فوج کے خلاف لڑائی میں شریک ہوں۔وہ حزب اللہ کے خلاف ماضی قریب میں سخت بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔