.

صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کی ریلیاں، تشدد کا خطرہ

حزب مخالف کے حامیوں کے میدان التحریر اور قاہرہ کے دوسرے علاقوں میں مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں نماز جمعہ کے بعد صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں اور مخالفین نے ان کے حق اور مخالفت میں احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔

صدر مرسی کے مخالف لبرل جماعتوں کے اتحاد اور گروپوں کے کارکنان نے قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے بینرز ،پلے کارڈز اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے جن پر صدرمرسی کے خلاف نعرے درج تھے۔ان میں سے سیکڑوں افراد نے رات میدان التحریر ہی میں گزاری تھی۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق قاہرہ کے دوسرے علاقوں میں بھی صدر مرسی کے اقتدار کی پہلی سالگرہ سے دو روز پہلے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔مظاہرین صدر مرسی کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ دوسری جانب اسلامی جماعتوں کے کارکنان نے قاہرہ کے نصر سٹی میں صدر کے حق میں مظاہرہ کیا ہے۔

مصری پارلیمان کے ایک سابق رکن نزار غراب نے صدر مرسی کو احتجاجی مظاہروں کے ذریعے ہٹانے کی کوششوں کو مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جمہوری طور پر منتخب صدر کو ہٹانے کے لیے بھی جمہوری طریقے اختیار کیے جانے چاہئیں اور انھیں اداروں کے ذریعے ہی ہٹایا جانا چاہیے۔

انھوں نے اخوان سے ماضی میں تعلق رکھنے والے صدر کے خلاف سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف برپا کردہ انقلاب پچیس جنوری کے اعادے کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہناہے کہ حسنی مبارک کے برعکس محمد مرسی کے ہزاروں حامی سڑکوں پر موجود ہیں۔اس لیے انھیں عوامی مظاہروں سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

حزب اختلاف کے اتحاد قومی محاذ آزادی سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن عبداللہ السناوی نے "العربیہ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرسی ناقابل اعتبار ثابت ہوئے ہیں،اس لیے انھیں سڑکوں پر مظاہروں کے ذریعے ہٹَایا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کو ادارہ جاتی طریقوں کے ذریعے نہیں ہٹایا جاسکتا ہے کیونکہ انھوں نے ریاستی اداروں کو بھی آلودہ کردیا ہے۔

حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے حامیوں کے درمیان تیس جون کو صدر محمد مرسی کے اقتدار کی پہلی سالگرہ مکمل ہونے پر کشیدگی عروج پر ہے اورفریقین کے حامیوں کے درمیان کسی تشدد آمیز واقعے سے بچنے کے لیے فوج کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔بدھ کو فوج کو بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ملک کے مختلف شہروں میں تعینات کردیا گیا تھا۔

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے اگلے روز خبردار کیا ہے کہ آرمی ملک کے حالات خراب ہونے کی صورت میں خاموشی تماشائی نہیں بنے گی اور وہ تشدد کو روکنے کے لیے مداخلت کرے گی۔انھوں نے مصریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتفاق رائے پیدا کریں اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اپنائیں۔انھوں نے یہ انتباہی بیان حزب اختلاف کی اپیل پرصدر محمد مرسی کی حکومت کے خلاف مجوزہ احتجاجی ریلیوں کے تناظر میں جاری کیا تھا۔