.

لبنان میں دو دھماکوں کا ہدف حزب اللہ کا قافلہ تھا؟

شناخت سے متعلق ذرائع ابلاغ کے دعوے، حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے مشرقی شہر زحلہ میں بین الاقوامی شاہراہ پر دو ہلکے دھماکوں میں ایک سکیورٹی کانوائے کو نشانہ بنایا گیا تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس قافلے کا تعلق کس سے تھا۔ ادھر ذرائع ابلاغ میں ہدف بنائے گئے سکیورٹی اہلکاروں کی شناخت اسدی حکومت کی حامی حزب اللہ ملیشیا کے زیر انتظام گروپ کے طور پر کی گئی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بج کر تیس منٹ پر زحلہ شہر کی بعلبک شہر کی جانب جانے والے شاہراہ پر تین گاڑیوں پر مشتمل ایک کانوائے رواں دواں تھا کہ البقاع کے علاقے میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے۔ دھماکوں کے فورا بعد مسلح افراد نے گاڑیوں سے اتر کر ہوائی فائرنگ کی اور پھر اپنا رخ بدل کر شامی سرحد کے قریبی علاقے شتورہ کی جانب کرلیا۔

دھماکے کی جگہ موجود ایک اخبار نے بتایا کہ دونوں بم روڈ کے وسط میں قائم چیک پوسٹ میں نصب کیے گئے تھے۔ یہ چیک پوسٹ لگ بھگ 20 میٹر پر پھیلی ہوئی تھی۔ دھماکوں سے چیک پوسٹ اور اس کے اندر لگے ہوئے چھوٹے درختوں کو شدید نقصان پہنچا۔

واضح رہے کہ شامی حدود سے چالیس کلومیٹر کی مسافت پر واقع زحلہ شہر میں لبنان کی سرکاری فوج اور داخلی سکیورٹی فورسز کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوگئی ہیں اور کشیدگی کے باعث ان کے لیے انٹرنیشنل روڈ سے گزرنا مشکل ہوگیا ہے، اسی بنا پر انہوں نے زحلہ شہر کے داخلی راستے کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

یاد رہے کہ جب سے لبنانی سرحد کے قریب واقع شامی شہر القصیر میں شامی فوج اور اس کی حلیف حزب اللہ کی شامی باغیوں کے ساتھ جنگ تیز ہوئی ہے البقاع کے علاقے میں بھی یومیہ بنیادوں پر کشیدگی کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔

شام میں دو سال قبل جھڑپوں کے آغاز سے ہی لبنان میں بھی پر تشدد کارروائیوں کا آغاز ہوگیا تھا۔ شامی جنگ کے حوالے سے لبنان شدید اختلافات کا شکار ہے، ایک گروہ شامی حکومت جبکہ دوسرا شامی باغیوں کا ساتھ دے رہا ہے اور ملک میں مذہبی اور سیاسی بنیادوں پر تشدد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔