.

دمشق کے نواح میں تشدد سے 16 شامیوں کی ہلاکت

شامی فورسز پر زیرحراست افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والے سولہ افراد کی تشدد زدہ لاشیں ان کے خاندانوں کے حوالے کی گئی ہیں۔مقتولین کو مبینہ طور پر شامی سکیورٹی فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جمعہ کو اطلاع دی ہے کہ ''اسے حرستا سے تعلق رکھنے والے سولہ افراد کی سرکاری سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تشدد سے ہلاکت کی اطلاع ملی ہے''۔

یہ واضح نہیں ہوا کہ ان افراد کو کب ہلاک کیا گیا تھا لیکن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ان کی لاشیں دمشق کے ایک اسپتال سے ان کے لواحقین کے حوالے کی گئی ہیں اور اس کے بعد ان کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

شامی صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں اس وقت ہزاروں افراد جیلوں یا دیگر حراستی مراکز میں پابند سلاسل ہیں اور انھیں وہاں تشدد کا نشانہ بنا کر موت سے ہمکنار کیا جارہا ہے۔آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ان ہزاروں زیرحراست افراد کی زندگیوں کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز ہلاک کیے گئے زیرحراست افراد کے خاندانوں کو خاموش رہنے کے لیے ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کی ان دھمکیوں کے پیش نظر تشدد سے ہلاک کیے گئے افراد کو بڑی خاموشی سے دفن کردیا جاتا ہے اور ان کی موت کی اطلاع سامنے نہیں آتی۔

واضح رہے کہ شامی فوج نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ مل کر حالیہ دنوں میں حرستا اور دمشق کے دوسرے نواحی علاقوں میں باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں تیز کررکھی ہیں۔ان کا مقصد دارالحکومت اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے باغی جنگجوؤں کو پاک کرنا اور حکومتی عمل داری قائم کرنا ہے۔

درایں اثناء آبزرویٹری کی ایک اور اطلاع کے مطابق جنوبی صوبے درعا میں واقع قصبے کرک میں گولہ باری سے پانچ خواتین جاں بحق ہوگئی ہیں۔ یاد رہے کہ شام میں گذشتہ ستائیس ماہ سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری مسلح عوامی تحریک کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔