.

عراق:بم دھماکوں اور خودکش حملے میں 22 افراد ہلاک

رمادی میں عراقی پولیس کے سنئیر افسر کی کار میں دو بم دھماکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مختلف علاقوں میں ایک جنازے ،سنئیر پولیس افسر کی کار اور فٹ بال اسٹیڈیم میں خودکش بم دھماکوں اور بم حملوں میں چودہ بائیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق دارالحکومت بغداد سے تیس کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع مدائن ایک فٹ بال اسٹیڈیم میں دو بم دھماکے ہوئے ہیں اور ان میں پانچ کھلاڑی مارے گئے ہیں۔بغداد کے مغرب میں بیکری کی ایک دکان کے نزدیک سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں تین افراد مارے گئے ہیں۔

سنی اکثریتی مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت رمادی میں ایک پولیس افسر کی گاڑی بم دھماکے میں تباہ ہوگئی ہے۔حملے میں پولیس افسر ہلاک ہوگیا ہے۔اس واقعہ کے پانچ منٹ کے بعد جائے وقوعہ پر ایک اور بم دھماکا ہوا۔اس حملے میں وہاں جمع ہونے والے افراد اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

موقع پر موجود ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ ''ہم ایک نزدیکی چیک پوائنٹ پر تعینات تھے جب ہم کار میں پہلے دھماکے کے بعد اس کے نزدیک جانے لگے تو ہمارے وہاں پہنچنے سے قبل ہی ایک اور دھماکا ہو گیا جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکاروں اور شہریوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں''۔

بغداد سے پچاس کلومیٹر شمال میں واقع قصبے الدوجیل میں ایک خود کش بمبار نے ایک جنازے پر حملہ کیا اور اس کے شرکاء کے درمیان خود کو اڑا دیا۔اس واقعے میں ایک سنئیر پولیس افسر سمیت چار افراد مارے گئے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے عراق میں ان بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن خود کش حملوں کو القاعدہ کا ٹریڈ مارک قرار دیا جاتا رہا ہے۔ فرقہ وارانہ بنیاد پر حملوں میں اہل تشیع اور اہل سنت دونوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز کے بعد سے عراق کے مختلف شہروں میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے مخالف مزاحمتی سنی گروپوں پر اہل تشیع اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق عراق میں مئی میں بم دھماکوں اور تشدد کے دوسرے واقعات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔2006ء اور 2007ء کے بعد فرقہ وارانہ بنیاد پر تشدد کے ان واقعات میں گذشتہ چھے ماہ کے دوران ہر ماہ اوسطاً ڈھائی سو سے تین سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔