.

چین، ایران اور روس کی شامی رجیم کو ماہانہ 50 کروڑ ڈالر ماہانہ مالی امداد

دمشق نے بین الاقوامی پابندیوں کو غیر موثر بنانے کی راہ تلاش کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں عوامی بغاوت کچلنے کی پاداش میں سخت بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں دمشق سرکار کا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں کیونکہ چین، روس اور ایران صدر بشارالاسد کے لیے اب بھی ایک مضبوط سہارا ہیں۔ تینوں ملک شامی حکومت کو ہر ماہ پچاس کروڑ ڈالرز کی نقد رقم فراہم کر رہے ہیں۔

دمشق حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ چین، روس اور ایران بشارالاسد حکومت بچانے کے لیے سیاسی، عسکری اور اقتصادی امداد بھرپور طریقے سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کے باعث حکومت اب ڈالر اور یورو پر انحصار کرنے کے بجائے ایرانی ، چینی اور روسی کرنسیوں میں لین دین کرتی ہے۔

شام کے نائب وزیراعظم اور اقتصادی امور کے نگران قدری جمیل نے برطانوی اخبار"فنائنشل ٹائمز" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران، چین اور روس شام کے تین بڑے حلیف ممالک ہیں جو ماہانہ پانچ سو ملین ڈالرز کی امداد فراہم کرتے ہیں۔ اس امدادی میں تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی رقم بھی شامل ہے۔

شامی نائب وزیر اعظم نے عالمی اقتصادی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام کی قومی کرنسی کے خلاف سازش قرار دیا۔ انہوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ہماری قومی کرنسی کو ڈبونے کے لیے عالمی سطح پر سازشیں ہو رہی ہیں لیکن ہمیں فخر ہے کہ چین، ایران اور روس جیسے حلیف ممالک ہماری معاونت کر رہے ہیں۔ یہ تینوں دوست ممالک نہ صرف ہمیں مالی سپورٹ کرتے ہیں بلکہ عسکری اور سیاسی مدد بھی مہیا کر رہے ہیں۔

قدری جمیل کا کہنا تھا کہ اسد رجیم نے ایران کے ساتھ تیل اور خوراک کی درآمدات کی لا محدود کریڈٹ لائن قائم کر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں تیل اور خوراک کی درآمدات و برآمدات میں کوئی بڑی مشکل درپیش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کی کرنسیوں بالخصوص ڈالر اور یورو پر انحصار ایک غلطی تھی، جس سے ملک میں معاشی بحران پیدا ہوا تاہم اب چین، روس اور ایران کی کرنسیوں میں لین دین شروع کرکے اس غلطی کا ازالہ کردیا گیا ہے۔

ادھر شامی امور کے ماہر تجزیہ کار ڈیوڈ پاٹر نے اخبار "الشرق الاوسط" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے باعث شامی معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچا ہے، لیکن شامی رجیم کے بعض حلیف ممالک اسے اب بھی بچانے کے لیے مدد فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر شامی حکومت کو غیرملکی امداد نہ مل رہی ہوتی تو بشار الاسد کا اقتدار پر قائم رہنا ناممکن ہو جاتا۔

مسٹر پاٹر کا کہنا تھا کہ دیگر حلیف ممالک میں ایران شام کا سب سے بڑا ڈونر ہے جو اسے مالی امداد کے ساتھ عسکری اور سیاسی معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔ روس دوسرا بڑا حلیف ہے جو عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود شام سے تیل کی خریداری اور دیگر شعبوں میں لین دین جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ روس شامی کرنسی خود چھاپ کر دمشق حکومت تک پہنچا رہا ہے۔