صدر مرسی کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے بعد 10 وزراء مستعفی

وزیراعظم ہشام قندیل نے پانچ وزراء کے استعفے مسترد کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں صدر محمد مرسی کے خلاف ہزاروں افراد کے احتجاجی مظاہروں کے ایک روز بعد دس وزراء اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

ایک سنیئر سرکاری عہدے دار نے بتایا ہے کہ وزیر سیاحت ہشام زازو ،ماحولیاتی امور کے وزیر مملکت خالد عبدالعال ،مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر عاطف حلمی ،وزیرمملکت برائے قانون اور پارلیمانی امور حاتم بجاتو اور وزیرپانی عبدالقوی خلیفہ نے اپنے استعفے وزیراعظم ہشام قندیل کے حوالے کر دیے ہیں لیکن وزیراعظم نے ان کے استعفے مسترد کردیے ہیں۔

ہشام زازو نے گذشتہ ماہ متنازعہ شخصیت عادل الخیات کو الاقصر کا گورنر مقرر کیے جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن ان کا یہ استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا تھا۔

خیات 1997ء میں الاقصر میں اٹھاون سیاحوں کی ہلاکت کے واقعہ میں ملوث ایک اسلامی جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔تاہم عادل خیات نے چند روز قبل مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔اس کے بعد ہشام زازو نے دوبارہ وزارت سنبھال لی تھی۔

درایں اثناء مصری پارلیمان کے آٹھ ارکان نے بھی اپنے استعفے جمع کرادیے ہیں۔مستعفی ہونے والی ایک رکن سوزی عدلی نے کہا ہے کہ وہ مصر میں خونریزی کے خلاف احتجاج کے طور پر مستعفی ہورہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت عوامی غیظ وغضب کا کوئی جواب نہیں دے رہی ہے۔ان کا اشارہ مظاہرین کے قبل از وقت صدارتی انتخابات کے مطالبے کی جانب تھا۔

صدر محمد مرسی کے خلاف اتوار کو لاکھوں افراد نے قاہرہ اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اس دوران تشدد کے واقعات میں دس افراد ہلاک اور چھے سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

صدر مرسی کے ہزاروں حامیوں نے بھی حزب مخالف کے مقابلے میں ریلیاں نکالی ہیں لیکن ان کے شرکاء کی تعداد ہزاروں میں تھی۔حزب اقتدار اور حزب مخالف دونوں کے حامیوں نے صدر مرسی کے اقتدار کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پرامن مظاہرے کرنے کے دعوے کیے تھے لیکن یہ دعوے دھرے ہی رہ گئے ہیں اور ملک کے مختلف شہروں میں تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں