لاکھوں مصریوں کے مرسی مخالف مظاہرے، تشدد کے واقعات میں 5 ہلاک

اخوان المسلمون کے کارکنوں اور حکومت مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں 250 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر کے خلاف لاکھوں افراد نے قاہرہ اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اس دوران تشدد کے واقعات میں پانچ افراد ہلاک اور ڈھائی سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں نے حزب مخالف کے مقابلے میں ریلیاں نکالی ہیں لیکن ان کے شرکاء کی تعداد ہزاروں میں تھی۔حزب اقتدار اور حزب مخالف دونوں کے حامیوں نے پرامن مظاہرے کرنے کے دعوے کیے تھے لیکن یہ دعوے دھرے ہی رہ گئے ہیں اور ملک کے مختلف شہروں میں تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔

مصر کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق وسطی صوبے اسیوط میں ایک موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے مظاہرین پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔قاہرہ کے جنوب میں واقع صوبے بنی سیوف میں صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں ایک شخص مارا گیا۔محکمہ صحت کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں دو سو تریپن افراد زخمی ہوئے ہیں۔

قاہرہ کے علاقے مقطعم میں مسلح افراد نے اخوان المسلمون کے دفتر پر پٹرول بموں سے حملہ کیا۔جماعت کے ترجمان جہاد الحداد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قریباً ڈیڑھ سو ٹھگوں نے عمارت پر پٹرول بم پھینکے اور پتھراؤ کیا ہے۔

حزب مخالف کے اتحاد قومی محاذ آزادی نے قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کی اپیل پر وہاں صدر مرسی کے خلاف نکالی گئی ریلی میں ہزاروں ،لاکھوں افراد نے شرکت کی ہے۔سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف تحریر چوک میں احتجاجی ریلیوں کے بعد یہ سب سے مظاہرہ تھا۔قومی محاذ آزادی نے مرسی کے اقتدار کے خاتمے تک سڑکوں پر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی نے صدر محمد مرسی کے حق میں ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ حزب اختلاف کے مظاہروں کے خاتمے تک یہ ریلیاں جاری رہیں گی۔صدر مرسی کے بیس ہزار سے زیادہ حامیوں نے صدارتی محل کے نزدیک واقع مسجد رابعہ العدویہ کے باہر اپنی عوامی طاقت کے اظہار کے لیے مظاہرہ کیا۔

قاہرہ میں اتوار کو شدید گرمی کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ صدر مرسی اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے امڈ آئے تھے۔وہ صدر کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔مظاہرین اخوان المسلمون کے خلاف اپنے غیظ وغضب کا اظہار کررہے تھے۔انھوں نے اس جماعت پر سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف برپا شدہ انقلاب کو ہائی جیک کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں بھی ہزاروں افراد نے حکومت کے خلاف ریلی نکالی۔ملک کے بیس دوسرے چھوٹے بڑے شہروں میں مرسی مخالف ریلیاں نکالی گئی ہیں۔لبرل اپوزیشن اتحاد قومی محاذ آزادی نے قاہرہ میں اپنے عظیم الشان عوامی اجتماع کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے اور''انقلابی اعلامیہ نمبر ایک'' قرار دیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ عوام نے صدر محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے اقتدار کے خاتمے کے مطالبے پر اپنی مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔

بہت سے مظاہرین نے محمد مرسی کے بجائے ان کی سابقہ جماعت کے خلاف اپنے شدید جذبات کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت نے ان کے عوامی انقلاب کو ہائی جیک کر لیا ہے اور وہ اپنی انتخابی کامیابیوں کو اقتدار پرگرفت مضبوط بنانے اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے استعمال کررہی ہے۔

لیکن اخوان کے ایک سنئیر رہ نما اعصام العریان نے حکومت مخالف مظاہروں کی مذمت کی ہے اور انھیں بغاوت کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔انھوں نے اخوان کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں حزب اختلاف کو چیلنج کیا ہے کہ وہ لوگوں کو پرتشدد مظاہروں پر اکسانے کے بجائے پارلیمانی انتخابات میں اپنی عوامی حمایت کا اندازہ کرنے کے لیے میدان میں اترے۔واضح رہے کہ لبرل گروپوں کو سابق صدر حسنی مبارک کی سبکدوش کے بعد مصر میں منعقدہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

درایں اثناء صدر مرسی کے سرکاری ترجمان عمر عامر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے اور وہ ان کی نشاندہی کے بعد ازالے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔انھوں نے صدر کی حزب اختلاف کو مذاکرات کی پیش کش کا اعادہ کیا اور واضح کیا کہ وہ مستعفی ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں