جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی"مشکوک" سرگرمیوں پر اسرائیل کی نظر

حزب اللہ، تل ابیب کے مقابلے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل مخالف لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی کے تازہ بادل منڈلانے لگے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق کہ فوج کا "النورس" انٹیلی جنس ونگ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی مشکوک سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ خیال رہے کہ "النورس" ونگ لبنان اور اسرائیل کی سرحد پرتعینات ہے۔ اس کی تعیناتی کا مقصد حزب اللہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری جواب دینا ہے۔

اسرائیل کے انگریزی روزنامہ "یروشلم پوسٹ" نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حزب اللہ بھی اپنے طور پراسرائیل کے خلاف کسی بھی ممکنہ لڑائی کے لیے تیار ہے۔ تنظیم نے جنوبی لبنان میں شیعہ اکثریتی علاقوں میں اسلحہ ذخیرہ کرنے اور جنگجوؤں کے بنکرقائم کرنے شروع کر دیے ہیں۔

صہیونی ذرائع کا کہنا ہے کہ "النورس" ونگ کے اعلیٰ انٹیلی جنس اہلکاروں کو یہ اطلاعات ملی ہیں کہ حزب اللہ، اسرائیل کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہے۔ جنگ کی صورت میں وہ تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو جنوبی لبنان میں سادہ کپڑوں میں گھوم پھر رہے ہیں۔ سرحد کے ساتھ اہل تشیع کی بستیوں میں بڑے پیمانے پرگولا بارود اور جنگجو جمع کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیلی سرحد کے ساتھ کم سے کم 80 ہزار راکٹ اور میزائل بھی جمع کردیے ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ کچھ عرصے سے لبنان کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں تعینات "النورس" ونگ کے اہلکاروں کو مختلف منظر ناموں کے تحت جنگی مشقیں کرائی جاتی رہی ہیں۔ ان میں حزب اللہ کےخلاف ممکنہ جنگ اور اس سے نمٹنے کی فوجی مشقیں بھی شامل ہیں۔ کسی مہم جوئی کی صورت میں محاذ جنگ پرموجود فوجیوں کو دشمن کے بارے میں چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر اپ ڈیٹ رکھنا النورس ونگ کی سب سے اہم ذمہ داری ہوگی تاکہ دشمن کے ٹھکانوں پر کاری ضرب لگائی جا سکے۔ جنگ کی صورت میں یہ بریگیڈ اپنی حساس اور دقیق معلومات دوسری یونٹوں بالخصوص شمالی فلسطین کے مقبوضہ شہر الجلیل میں متمرکز بٹالین91 کو بھی فراہم کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں