.

دمشق میں شامی فوج کی گولہ باری سے 14 افراد ہلاک

شامی فورسز پر کار بم حملے میں متعدد اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیر قبضہ ایک گاؤں پر گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شامی فوج کی اس گولہ باری سے قبل دارالحکومت کے جنوب مغرب میں واقع علاقے کفر سوسہ میں کار بم دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکار مارے گئے تھے۔اطلاعات کے مطابق باغی جنگجوؤں نے سرکاری سکیورٹی فورسز کو حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق اسدی فوج نے دمشق کے نواح میں واقع گاؤں کفر بتنہ میں باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔اس حملے میں تین خواتین اور تین بچوں سمیت چودہ افراد مارے گئے ہیں۔کفر بتنہ دمشق کے کے مشرقی علاقے غوطہ میں واقع ہے اور اس گاؤں میں باغیوں کے متعدد ٹھکانے بتائے جاتے ہیں۔

شامی فوج نے قبل ازیں باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کی سپلائی لائن کاٹنے کے لیے اس علاقے میں ایک بڑی کارروائی کی تھی۔اس دوران باغیوں کے ٹھکانوں پر فوج نے شدید گولہ باری کی تھی اور فضائی حملے کیے تھے۔

درایں اثناء شام کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے اطلاع دی ہے کہ آرمی نے دمشق کے مشرق میں واقع علاقے جبر میں سکیورٹی اور استحکام کو بحال کردیا ہے۔اس علاقے میں حالیہ ہفتوں کے دوران باغیوں اور شامی فوج کے درمیان شدید لڑائی ہوتی رہی ہے۔شامی فوجیوں نے دارالحکومت کے شمال مشرقی علاقے قابون اور برزہ میں بھی گولہ باری کی ہے۔

ادھر شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے وسطی شہر حمص میں باغی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر منگل کو چوتھے روز بھی زمینی اور فضائی حملے جاری رکھے ہیں۔

شامی فوج خالدیہ اور قدیم شہر پر توپ خانے سے گولہ باری کررہی ہے اور فضا سے جنگی طیارے بارود برسا رہے ہیں۔گذشتہ ان علاقوں میں باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں فوج اور اس کے ساتھ مل کر لڑنے والی نیشنل ڈیفنس فورس کے بتیس اہلکار مارے گئے تھے۔

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے جنگجو بھی شامی فوج کے ساتھ مل کر خالدیہ کے محاذ پر جیش الحر کے جنگجوؤں سے لڑرہے ہیں اور وہ علویوں کے آبادی والے علاقے زہرا کو اپنے لیے بیس کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔گذشتہ تین روز کے دوران شامی فوج نے خالدیہ کے علاوہ باب ہود ،حمیدیہ اور بوستان الدیوان سمیت حمص کے مختلف علاقوں میں گولہ باری کی تھی۔