.

مصری فوج کا لائحہ عمل: آئین معطل اور پارلیمان کو چلتا کرنے کی تیاری

مسلح افواج کے مجوزہ منصوبے کا مقصد ملک میں جاری بحران کا خاتمہ ہے: عسکری ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ایک فوجی ذریعے کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات ختم نہیں کرتی ہیں تو پھر مسلح افواج ایک سیاسی لائحہ عمل کے مسودے کی تیاری کر رہی ہیں جس کے تحت آئین کو مطل کردیا جائے گا اور اسلام پسندوں کی بالادستی والی پارلیمان کو تحلیل کردیا جائے گا۔

مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل نے صدر محمد مرسی اور حزب اختلاف کو بحران کے سیاسی حل کے لیے بدھ تک کا الٹی میٹم دے رکھا ہے۔ذرائع کے مطابق مسلح افواج کی سپریم کونسل مجوزہ نقشہ راہ پر غور کر رہی ہے اور اس کا مقصد ملک میں جاری بحران کا خاتمہ ہے۔

تاہم ان ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ اس منصوبے میں ملک میں ہونے والی سیاسی پیش رفت اور سیاسی مذاکرات کے پیش نظر ترمیم کی جا سکتی ہے۔

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے سوموار کو ایک نشری بیان میں صدر محمد مرسی اور حزب مخالف کی سیاسی قوتوں کو کسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچتے تو پھر انھیں مستقبل کے لیے فوج کے نقشہ راہ کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس میں ہر کوئی شامل نہیں ہوگا۔

جنرل عبدالفتاح السیسی نے سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے بیان میں اتوار کو صدر محمد مرسی کے خلاف عوامی احتجاجی ریلیوں کو عوام کی راَئے کا ایک بے مثال مظاہرہ قرار دیا تھا۔ان کے الٹی میٹم کی مدت بدھ کو ختم ہورہی ہے لیکن صدر محمد مرسی نے اس الٹی میٹم کو مسترد کردیا ہے۔ان کے اقتدار کی پہلی سالگرہ کے موقع پر حکومت مخالف ہزاروں افراد نے ملک گیر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار اور اپوزیشن لیڈر حمدین صباحی نے صدر مرسی کے اقتدار نہ چھوڑنے کی صورت میں فوج سے مداخلت کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ''مسلح افواج کو اقدام کرنا چاہیے کیونکہ انھوں نے ہمیشہ عوام کی رائے کی طرف داری کی ہے''۔