.

مصری کابینہ اور ایوان صدر کے دونوں ترجمان مستعفی

صدر مرسی کا ساتھ چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ، بحران شدید تر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری صدر محمد مرسی کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد ان کا ساتھ چھوڑنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ان کے دونوں ترجمانوں کے علاوہ کابینہ کے ترجمان مستعفی ہوگئے ہیں۔

قاہرہ سے العربیہ کے نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ صدارتی ترجمان عمرعامر اور ایہاب فہمی منگل کو اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔ان کے علاوہ کابینہ کے ترجمان علاء الحدید بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔علاء نے سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کو بتایا ہے کہ انھوں نے وزیراعظم ہشام قندیل کو اپنا استعفیٰ بھجوا دیا ہے۔

صدر محمد مرسی پر اس وقت فوج اور حزب اختلاف کی جانب سے مستعفی ہونے کے لیے سخت دباؤ ڈالا جارہا ہے۔اتوار اور سوموار کو ان کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور ان مظاہروں کے بعد ان کی کابینہ میں شامل چھے وزراء نے استعفے دے دیے تھے۔ایک اطلاع کے مطابق کل دس وزراء نے عہدے چھوڑ دیے ہیں۔

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے گذشتہ روز صدر مرسی کو حزب اختلاف کی سیاسی قوتوں کے ساتھ کسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ بحران کے حل کے لیے کسی نتیجے تک نہیں پہنچتے تو پھر انھیں مستقبل کے لیے فوج کے نقشہ راہ کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس میں ہر کوئی شامل نہیں ہوگا۔اس الٹی میٹم کی مدت بدھ کو ختم ہورہی ہے لیکن صدر محمد مرسی نے اس کو مسترد کردیا ہے۔