.

اہلِ مصر فوج کی ''بغاوت'' کو قبول نہیں کریں گے:اعصام العریان

فوج کی بغاوت کی صورت میں لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ حریت اور انصاف پارٹی کے نائب سربراہ اعصام العریان نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوج نے بغاوت کی تو مصری عوام خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ آزادی زندگی سے بھی زیادہ قیمتی چیز ہے۔

انھوں نے مصر کی مسلح افواج کی جانب سے جاری کردہ اڑتالیس گھنٹے کے الٹی میٹم کے تناظر میں بیان میں کہا ہے کہ ''جو لوگ یہ گمان کیے اور شرط لگائے بیٹھے ہیں کہ عوام فوج کی بغاوت کی صورت میں خاموش بیٹھے رہیں گے تو وہ غلطی پر ہیں اور وہ یہ شرط ہار جائیں گے''۔

درایں اثناء حکومت کی سخت گیر اتحادی جماعت الجماعۃ الاسلامیہ کے ایک سنئیر لیڈر طارق الزمر نے صدر محمد مرسی پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں خونریزی اور فوجی بغاوت سے بچنے کے لیے قبل از وقت صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان کردیں۔

لیکن ان کے اس بیان کی ان کی جماعت ہی کے ایک اور لیڈر نے تردید کردی ہے۔جماعۃ الاسلامیہ کے ایک عہدے دار نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر مرسی سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا حالانکہ مسلح افواج کی جانب سے اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم جاری ہونے کے بعد جماعۃ الاسلامیہ کی جانب سے سربراہ ریاست پر زوردیا گیا تھا کہ وہ سیاسی بحران کے تصفیے کے لیے قبل از وقت صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان کردیں۔