.

مسلح افواج کسی کی طرف داری نہ کریں: محمد مرسی

ملک کو پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا: مصری صدر کا آئینی عہدے کے تحفظ کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر محمد مرسی نے مسلح افواج کو خبردار کیا ہے کہ وہ ملک میں جاری سیاسی بحران میں کسی فریق کی طرف داری نہ کریں اور اگر انھوں نے ایسا کیا تو یہ ایک بڑی غلطی ہوگی۔

صدر مرسی نے بدھ کی رات یہ بیان مسلح افواج کی جانب سے جاری کردہ اڑتالیس گھنٹے کے الٹی میٹم کے خاتمے کے بعد دیا ہے۔انھوں نے اپنے آئینی عہدے کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کو پیچھے نہیں دھکیلا جاسکتا۔

انھوں نے ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے قومی اتفاق رائے کی حکومت کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بُک پر ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آیندہ پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کے لیےایوان صدر اتفاق رائے سے قومی اتحادکی حکومت کی تجویز پیش کرتا ہے''۔

بیان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کو گذشتہ دسمبر میں منظور کردہ آئین میں ترامیم کے لیے ایک پینل کی تشکیل کی تجویز کو سبوتاژ کرنے کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔حزب اختلاف کی جماعتیں اور ان کے حامی صدر محمد مرسی سے اقتدار چھوڑنے اور قبل از وقت صدارتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

انھوں نے اپنے اس مطالبے کے حق میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور مصرمیں نوزائیدہ جمہوریت اور ملک کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر کو ایک سال کے بعد ہی اقتدار سے ہٹانے کے لیے فوج سے مداخلت کا مطالبہ کررہے ہیں اور وہ صدر مرسی کے استعفے سے کم پر راضی ہونے کو تیار نہیں ہیں۔