.

فوج کی بکتر بند گاڑیوں کا قاہرہ میں سرکاری ٹی وی کی عمارت کا محاصرہ

مصرکی مسلح افواج کا الٹی میٹم ختم ہونے کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں مسلح افواج کا صدر محمد مرسی اور حزب اختلاف کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم ختم ہونے کو ہے لیکن سیاسی بحران کے حل کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ دارالحکومت قاہرہ میں ہر لمحہ صورت حال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔

فوری طورپر مسلح افواج کی جانب سے ایسا کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ وہ الٹی میٹم کے خاتمے کے بعد منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کو چلتا کرکے خود اقتدار سنبھالنے والی ہے۔

دارالحکومت قاہرہ کی سڑکوں پر فوج کی غیرمعمولی نقل وحرکت دیکھنے میں نہیں آئی ہے البتہ فوج کی بکتر بند گاڑیوں نے سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت کا محاصرہ کر لیا ہے اور وہاں سے براہ راست نشریات کے لیے کام نہ کرنے والے عملے کو واپس بھیج دیا گیا ہے یا وہ از خود ہی واپس چلا گیا ہے۔

ایک فوجی ذریعے نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اگر سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات ختم نہیں کرتی ہیں تو پھر مسلح افواج ایک ایسے سیاسی نقشہ راہ کے مسودے کی تیاری کررہی ہیں جس کے تحت آئین کو معطل کردیا جائے گا اور اسلام پسندوں کی بالادستی والی پارلیمان کو تحلیل کردیا جائے گا۔ تاہم اس فوجی ذریعے کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں ملک میں ہونے والی سیاسی پیش رفت اور سیاسی مذاکرات کے پیش نظر ترمیم کی جاسکتی ہے۔

مسلح افواج کی سپریم کونسل نے بدھ کو مجوزہ نقشہ راہ پر حزب اختلاف کے بعض لیڈروں سے بات چیت کی ہے لیکن اس کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔دوسری جانب اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ نے فوجی کمانڈروں کی جانب سے ملاقات کی دعوت کو مسترد کردیا ہے اور ان سے ملاقات نہیں کی ہے۔