.

خلیج میں حزب اللہ کے مالیاتی اور تجارتی ذرائع کا تعاقب

خطے میں تنظیم کے نیٹ ورک کی موجودگی کے انکشاف کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ملکوں میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ سے وابستہ نیٹ ورک کی موجودگی کے انکشافات کے بعد تنظیم کے مالیاتی اور تجارتی ذرائع کا تعاقب جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے داخلہ سیکٹریوں کی سطح پراہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں حزب اللہ کے خطے میں تیزی سے پھیلتے نیٹ ورک اور اس کی روک تھام کے طریقہ کار پرغورکیا گیا۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بحرین کے سیکرٹری داخلہ جنرل خالد العبسی نے بتایا کہ "جی سی سی" کے رکن ممالک حزب اللہ کو فنڈز فراہم کرنے والے ذرائع کی نشاندہی اور انہیں ختم کرنے کے طریقے پرغور کر رہے ہیں۔

جنرل العبسی کا کہنا تھا کہ ریاض میں داخلہ سیکرٹری سطح کے خلیجی حکام کے اجلاس کا سب سے اہم ایجنڈا ہی خطے میں حزب اللہ کی بڑھتی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیےلائحہ عمل طے کرنا تھا۔

اجلاس میں حزب اللہ کے مالیاتی سوتوں کو خشک کرنے اور اس کے تجارتی اور مالیاتی معاملات پرپابندی سے متعلق سفارشات جی سی سی کے وزراء داخلہ تک پہنچائی جائیں گی۔ بعد ازاں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو فارمولے کے قانونی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے اسے قابل عمل بنانے کی سفارشات مرتب کرے گی۔

بحرینی سیکرٹری خارجہ نے حزب اللہ سے وابستگی کے الزام میں خلیج سے نکالے گئے افراد کی تعداد سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک میں ایسے کئی گروپوں کی نشاندہی ہوئی ہے جو ایران اور حزب اللہ سے تعلق رکھتے ہیں اور تنظیم کو مالی فوائد پہنچا رہے ہیں۔ جنرل العبسی کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک میں حزب اللہ نواز گروپ شام میں بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی تحریک کچلنے کے لیے دہشت گردی کی تربیت بھی فراہم کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ یہ خبریں آئی تھیں کہ خلیجی ممالک نے حزب اللہ سے تعلق کے الزام میں کئی غیر ملکیوں کو نکال دیا ہے۔ دیگرممالک کی طرح قطرنے بھی لبنان کے اٹھارہ باشندوں کو دوحہ سے نکال دیا تھا۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق خلیجی ممالک میں لبنان کے تین لاکھ ساٹھ ہزار باشندے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ جو لبنان کو سالانہ چار کروڑ ڈالرکا زرمبادلہ فراہم کرتے ہیں۔