.

مرسی کی 10 بڑی غلطیاں، جو ان کی رخصتی کا سبب بنیں

فوج کے سابق سربراہ کی برطرفی اور عدلیہ سے محاذ آرائی نے اقتدار مختصر کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی مسلح افواج نے ملک کے منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی حکومت کا حزب اختلاف کے ہزاروں حامیوں کے چار روز تک احتجاجی مظاہروں کے بعد تختہ الٹ دیا ہے۔ اب یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ وہ کون سی وجوہ ہیں جن کی بنا پر فوج نے انتہائی اقدام کیا اور منتخب صدر کو ان کے اقتدار کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ہی چلتا کیا ہے۔ یہاں برطرف صدر کی دس بڑی غلطیوں کی نشاندہی کی جارہی ہے جو ممکنہ طور پر ان کے قبل از وقت زوال کا سبب بنی ہیں:

1۔ ریاست کو ''اخوانی رنگ میں رنگنا''

برطرف صدر نے اپنے یک سالہ دور حکومت میں مختلف ریاستی اداروں میں اپنی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے ارکان کو مختلف عہدوں پر مقرر کیا تھا۔انھوں نے اخوان کے پانچ ارکان کو مختلف وزارتوں میں کھپایا، آٹھ کو ایوان صدر میں ملازمتیں دیں۔ان کے علاوہ سات کو صوبائی (علاقائی) گورنر مقرر کیا ،بارہ کو گورنریوں کے معاونین مقرر کیا،تیرہ کو گورنری کونسلر اور بارہ کو شہروں کے مئیرز مقرر کیا تھا۔اس طرح انھوں نے میرٹ کو بالائے طاق رکھ کر ریاستی اداروں کو ''اخوانیانے'' کی پالیسی اختیار کی جس کی وجہ سے انھیں حزب اختلاف اور اخوان مخالف حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

2۔ ججز اور عدلیہ

محمد مرسی نے اپنے ایک سالہ دور اقتدار میں عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔انھوں نے گذشتہ سال نومبر میں پبلک پراسیکیوٹر عبدالمجید محمود کو برطرف کردیا لیکن ان کے اس اقدام کو ملک کی دستوری عدالت عظمیٰ نے غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کردیا۔

انھوں نے نومبر2012 ء میں عدلیہ کے اختیارات ہتھیانے کی کوشش کی اور ایک متنازعہ صدارتی فرمان کے ذریعے یہ قرار دے لیا کہ ان کے جاری کردہ صدارتی فرامین کو عدلیہ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ان کے اس اقدام کو عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔

3۔ مبارک دور کے فوجی سربراہ کی جبری رخصتی

برطرف صدر نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے فوج کے سربراہ اور سابق صدر حسنی مبارک کے دور سے وزیر دفاع کے عہدے پر فائز فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی کو اچانک برطرف کردیا۔ان کے اس فیصلے پر چہ میگوئیاں کی گئی تھیں۔مرسی کو ان پر اعتماد نہیں تھا لیکن یہ فیلڈ مارشل طنطاوی اور مسلح افواج کی سپریم کونسل کے دوسرے کمانڈر ہی تھے جنھوں نے سابق مرد آہن حسنی مبارک کو فروری 2011 ء میں اقتدار چھوڑنے پر آمادہ کیا تھا۔

اخوان المسلمون کی جانب سے فوج کی مبینہ طور پر مسلسل توہین کی کوشش کی جاتی رہی تھی جس کی وجہ سے مرسی اور فوجی اسٹیلبشمنٹ کے درمیان عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوگئی اور بالآخر فوج نے انھیں واپسی کی راہ دکھا دی۔

4۔ میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن

محمد مرسی نے اپنے اقتدار میں مصر کے بعض سرکاری اخبارات کے مدیران کو ان کے عہدوں سے برطرف کردیا ،اس کے علاوہ متعدد اخبارات کو ضبط کر لیا گیا جس پر ان کی حکمرانی میں مصر میں میڈیا کی آزادی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جانے لگا۔

اس کے علاوہ مصر کے پبلک پراسیکیوٹر نے دوسو سے زیادہ صحافیوں سے پوچھ گچھ کی اور صدارتی دفتر نے صحافیوں اور میڈیا کی شخصیات کے خلاف ایک سو سے زیادہ کیس دائر کیے۔ان میں ملک کے معروف طناز باسم یوسف بھی شامل تھے۔

جب مرسی حکومت پر میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن پر تنقید کی گئی تو اس کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ان میڈیا رپورٹس کو دبانا تھا جن کی وجہ سے تشدد کو مہمیز مل رہی تھی۔اس کے علاوہ حکومت کے مطابق میڈیا نومنتخب صدر کی ذات کو نشانہ بنا رہا تھا۔

5۔ معاشی ناکامی

محمد مرسی صدارتی انتخابات کے لیے مہم کے دوران عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے تھے۔انھوں نے اجرتوں میں اضافہ کیا اور نہ عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے تھے جس کی وجہ سے انھیں صرف ایک سال کے بعد عوام کے غیظ وغضب کا نشانہ بننا پڑا اور لاکھوں کی تعداد میں مصریوں نے سڑکوں پر آکر ان کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔

مصر میں گذشتہ ایک سال کے دوران مرسی حکومت کے خلاف پانچ سو اٹھاون احتجاجی مظاہرے کیے گئے،پانچ سو چودہ ہڑتالیں ہوئیں اور قریباً پانچ سو دھرنے دیے گئے۔برطرف صدر نے گذشتہ سال نومبر میں ٹیکس قوانین میں ترامیم کے ذریعے معاشی بحران کو حل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کے اس اقدام سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا۔

6۔ خارجہ امور

مرسی کے تہران اور ماسکو کے دورے کے وقت کو شامی بحران کے حوالے سے ان دونوں ممالک کے موقف کے تناظر میں دیکھا گیا۔روس اور ایران شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں جبکہ شامی عوام نے اپنے صدر کے خلاف مصر اور تیونس میں عوامی احتجاجی تحریکوں کی کامیابی کے بعد ہی میدان میں اترے تھے اور ان سے تحریک حاصل کی تھی۔

7۔ حقیقی فیصلہ ساز

اخوان المسلمون کے لیڈر ریاستی امور سے متعلق فیصلوں کے بارے میں عوامی اجتماعات میں اعلانات کرتے رہے تھے۔اس سے عوام کا یہ تاثر ملا کہ مرسی کے فیصلوں کے پیچھے حقیقی فیصلہ ساز تو یہ لوگ ہیں۔اس سے عوام میں مرسی کا امیج بری طرح مجروح ہوا۔

8۔ ایمرجنسی کا نفاذ

نہر سویز کے کنارے واقع تین شہروں میں چار روز تک مسلسل بد امنی اور توڑ پھوڑ کے واقعات کے بعد صدر مرسی نے وہاں ہنگامی حالت نافذ کردی تھی۔ان شہروں میں تیس دن کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا لیکن اس اقدام کی پارلیمان یا شوریِٰ کونسل سے منظوری ضروری تھی۔ان شہروں کے مکینوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مظاہرے جاری رکھے۔اس طرح انھوں نے صدر مرسی کی نافذ کردہ ہنگامی حالت کو تار تار کردیا۔

9۔ قیدیوں کے لیے معافی

محمد مرسی نے وادی نطرون جیل میں قید بائیس مدعاعلیہان کو معافی دینے کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا۔اس کے تحت معاف کیے گئے قیدیوں میں بعض وہ بھی شامل تھے جو منشیات کی فروخت اور قتل کے سنگین مقدمات میں ملوث تھے۔

10۔ حزب اختلاف پر الزامات

مرسی نے اپنے مختصر دور حکومت میں حزب اختلاف کے خلاف عدالتوں میں شکایات دائر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ان کی حکومت نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سابق سربراہ اور حزب اختلاف کے اہم رہ نما محمد البرادعی ،شکست خوردہ صدارتی امیدواروں حمدین صباحی اور عمرو موسیٰ کے علاوہ میڈیا کی متعدد شخصیات پر عوام کو نومنتخب صدر کے خلاف اکسانے کے الزام میں مقدمات قائم کیے اور ان میں سے بعض سے بازپرس بھی کی گئی تھی۔