.

مصری پراسیکیوشن نے اخوان کے دو سرکردہ لیڈروں کو رہا کردیا

حریت اورانصاف پارٹی کے سربراہ سعد الکتاتنی کی رہائی سے متعلق متضاد اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پراسیکیوشن نے اخوان المسلمون کے دو سرکردہ لیڈروں کو مبینہ طور پر رہا کردیا ہے۔

اخوان کے سیاسی چہرہ حریت اور انصاف پارٹی کے سربراہ سعد الکتاتنی اور نائب سربراہ رشاد بیومی کی رہائی کی خبر سرکاری خبررساں ادارے مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی (مینا) نے دی ہے لیکن پراسیکیوشن نے ان دونوں میں سے ایک کی رہائی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ فی الوقت زیرتفتیش ہیں۔

پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ سعدالکتاتنی ابھی تک زیر حراست ہیں۔البتہ اس نے رشاد بیومی کی رہائی کی خبرکے حوالے سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا۔

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے بدھ کی رات اخوان سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کی حکومت برطرف کردی تھی اور اس کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے ان کے قریبی مشیروں اور اخوان کے سرکردہ لیڈروں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی تھی۔

مصری حکام نے منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے فوری بعد اخوان المسلمون کے تین سو عہدے داروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔حریت اور انصاف پارٹی کے سربراہ اور تحلیل شدہ پارلیمان کے اسپیکر سعدالکتاتنی اور جماعت کے نائب مرشد عام رشاد بیومی کو گرفتار کرکے جیل میں منتقل کردیا گیا تھا۔

فوجی سربراہ نے مرسی حکومت کے وضع کردہ ملک کے نئے آئین کو معطل کردیا تھا اور قبل از وقت صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔فوجی سربراہ نے اپنی نشری تقریر میں کہا کہ ملک کا نظم ونسق چلانے کے لیے ٹینکو کریٹس پر مشتمل نگران کابینہ تشکیل دی جائے گی۔تاہم انھوں نے دو روز بعد بھی اس کابینہ کے خدوخال واضح نہیں کیے ہیں۔