.

مصر میں فوجی اقتدار کی راہ ہموار نہیں ہوئی:وزیر خارجہ

امریکا مصر کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا:جان کیری کی یقین دہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور مصرکے وزرائے خارجہ کے درمیان پہلا ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں مصری عبوری وزیر خارجہ کامل عمرو نے امریکی وزیر خارجہ کویہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ صدر کی برطرفی سے فوجی اقتدار کی راہ ہموار نہیں ہوئی ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے ہم منصب کو فوج کے ہاتھوں صدر مرسی کی برطرفی کے بعد بھی مصر کے ساتھ ہر ممکن امریکی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مصر کے عبوری وزیر خارجہ کامل عمرو کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا اور مصر دونوں باہم تزویراتی حلیف ہیں اور خطے میں دونوں کے مفادات مشترکہ ہیں۔ کامل عمرو مرسی حکومت میں بھی وزیر خارجہ تھے۔انھوں نے اس موقع پر بتایا کہ انھوں نے صدر مرسی کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا تاہم استعفیٰ منظور نہ ہونے کے باعث وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انھیں نئی حکومت نے بھی وزیر خارجہ کے منصب پربرقرار رکھا گیا ہے اور عبوری حکومت کی تشکیل مکمل ہونے تک وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔انھوں نے توقع ظاہر کی کہ مصر موجودہ بحرانی صورتحال سے جلد نکل آئے گا۔

مصری وزیر خارجہ نے فون پر جان کیری سے بات کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ منتخب صدر مرسی کی برطرفی کومصر میں فوجی انقلاب سے تعبیر نہ کیا جائے بلکہ اس مرحلے کو عوامی رائے کا احترام سمجھا جائے۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبوری وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ان کے امریکی ہم منصب جان کیری نے مصرکے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک دیرینہ اتحادی ہیں۔اس لیے مصرکی موجودہ سیاسی صورت حال کے باوجود باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ جان کیری کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں مصر میں انسانی حقوق، بنیادی شہری آزادیوں اور جمہوریت کی بالادستی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔انھوں نے کہا کہ نئی حکومت معزول کیے گئے صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمون سے بھی کسی قسم کا انتقام نہیں لے گی۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے قاہرہ میں متعین کئی ملکوں کے سفیروں کو ملک کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بریفنگ دی ہے جبکہ بارہ ملکوں کے وزراء خارجہ سے ٹیلی فون پررابطہ کیا ہے اور ان سے مصر میں ہونے والی پیش رفت پر بات چیت کی ہے۔

درایں اثناء یہ بھی اطلاع سامنے آئی ہے کہ مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح کے ہاتھوں منتخب جمہوری صدر کا تختہ الٹنے کے بعد امریکا مصر کو دی جانے والی سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالرز کی امداد پر نظرثانی کررہا ہے۔یہ امداد زیادہ تر فوجی سازوسامان پر مشتمل ہوتی ہے اور امریکا کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے تحت ہر سال مصر کو یہ ڈیڑھ ارب ڈالرز دے رہا ہے۔امریکی قانون کے تحت اگر فوج کسی منتخب حکومت کا دھڑن تختہ کردے تو واشنگٹن انتظامیہ اس ملک کو دی جانے والی امداد بند کرنے کی پابند ہے۔