.

مصر کی ''غاصب'' حکومت کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہوگا:اخوان

برطرف صدر کے حامی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھیں:اعصام العریان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اخوان المسلمون کے سنئیر رہ نما اعصام العریان نے واضح کیا ہے کہ مصر کی ''غاصب'' حکومت کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا۔انھوں نے اخوان کی اتحادی جماعتوں پر زوردیا ہے کہ وہ اس حکومت کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعاون نہ کریں۔

اعصام العریان جامع مسجد رابعہ العدویہ کے باہر نماز جمعہ کے بعد نمودار ہوئے ہیں جہاں برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامی مسلح افواج کے اقدام اور آئین کی معطلی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔مظاہرین نے منتخب صدر کا تختہ الٹنے اور فوجی بغاوت کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور انھوں نے پورے ملک میں جہاد کا اعلان کیا۔

اخوان کے سیاسی چہرہ حریت اور انصاف پارٹی کے نائب سربراہ نے عبوری حکومت کے سربراہ عدلی منصور کو بھی پارلیمان کے ایوان بالا شوریٰ کونسل کو تحلیل کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے اخوان المسلمون کے حامیوں پر زوردیا ہے کہ وہ چوکوں اور چوراہوں میں منتخب جمہوری صدر کی برطرفی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں۔

انھوں نے احتجاجی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر محمد مرسی کی برطرفی کو مسترد کرتے ہیں اور فوج کی نگرانی میں بننے والی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آئینی حکومت کے خلاف اس فوجی بغاوت کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور کوئی بھی معزز شخص نئی عبوری حکومت کے ساتھ معاملہ نہیں کرے گا۔

درایں اثناء اخوان کے مرشد عام محمد بدیع نے بھی قاہرہ میں ریلی میں شرکت کی ہے۔محمد مرسی کی برطرفی کے ایک روز بعد پراسیکیوٹرجنرل کے دفتر نے ان کی گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا۔مصری سکیورٹی فورسز نے محمد بدیع کو لیبیا کی سرحد کے نزدیک واقع ساحلی شہر مرسی مطروح سے گرفتار کرنے کی اطلاع دی تھی لیکن اخوان نے اس خبر کی تردید کی تھی۔

پراسیکیوٹر جنرل نے اخوان کے نائب مرشد عام خیرات الشاطر کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ان دونوں پر لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا الزام عاید کیا گیا ہے اور مرشد عام اور نائب مرشد عام گذشتہ اتوار کو قاہرہ کے علاقے مقطعم میں اخوان کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر مظاہرین کے قتل کی ترغیب دینے کے الزام میں حکام کو مطلوب ہیں۔

مصری حکام نے بدھ کی رات منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے فوری بعد اخوان المسلمون کے تین سو عہدے داروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔حریت اور انصاف پارٹی کے سربراہ اور تحلیل شدہ پارلیمان کے اسپیکر سعدالکتاتنی اور جماعت کے نائب مرشد عام رشاد بیومی کو گرفتار کرکے جیل میں منتقل کردیا گیا تھا۔