.

مصر کے پراسیکیوٹر جنرل بحالی کے دو روز بعد عہدے سے مستعفی

عبدالمجید محمود کا منتخب صدر مرسی کی برطرفی اور فوجی انقلاب کے بعد اچانک فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے پبلک پراسیکیوٹر عبدالمجید محمود نے اپنی بحالی کے دو روز بعد ہی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مصر کے سرکاری میڈیا نے ان کے مستعفی ہونے کی اطلاع دی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ انھوں نے اچانک اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا ہے حالانکہ انھوں نے برطرف صدر محمد مرسی کے ایک آئینی اعلامیے کے تحت اپنی برطرفی کو عدلیہ میں چیلنج کیا تھا اور بحالی کے لیے کئی ماہ تک قانونی جنگ لڑی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے عہدے کے لیے نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اب مصر کی مسلح افواج کے سربراہ نے منتخب جمہوری صدر کا ایک سال کے بعد ہی تختہ الٹ دیا ہے اور ان کی جگہ اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ کو عبوری صدر مقرر کردیا ہے۔اس نئے سیٹ اپ میں عبدالمجید محمود شاید خود کو موزوں خیال نہ کررہے ہوں اور انھوں نے پراسیکیوٹر جنرل کا عہدہ چھوڑنے کو ترجیح دی ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی کورٹ آف اپیلز نے گذشتہ منگل کو اپنے حتمی فیصلے میں عبدالمجید محمود کو اٹارنی جنرل کے عہدے پر بحال کردیا تھا اور بدھ کو سپریم دستوری عدالت نے ان کی بحالی کے فیصلے کی توثیق کردی تھی۔اسی روز مسلح افواج نے منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی حکومت کا دھڑن تختہ کردیا تھا۔

انھیں برطرف صدر محمد مرسی نے نومبر 2012ء میں عہدے سے ہٹا دیا تھا اور یہ فیصلہ انقلابیوں کی جانب سے منظرعام پر آنے والی شکایات کے بعد کیا گیا تھا۔سابق صدر نے ان کی جگہ اپنے ہم خیال طلعت عبداللہ کو پراسیکیوٹر جنرل مقرر کیا تھا۔

عبدالمجید محمود نے اپنی برطرفی کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔مصر کی ایک اپیل عدالت نے چند ماہ قبل ان کی برطرفی کے صدارتی حکم کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور انھیں ان کے عہدے پر بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔اس عدالتی فیصلے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ابھی مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ انھوں نے کیا کرنا ہے۔