.

العریش اور رفح میں مسلح افراد کے حملے،تین مصری اہلکار ہلاک

سرحدی علاقے میں حملوں کے بعد مصر نے رفح بارڈر کراسنگ بند کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے علاقے شمالی سینا کے شہر العریش میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں جمعہ کو تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والے مصری اہلکاروں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکار العریش میں ایک سرکاری عمارت کی حفاظت پر مامور تھے۔ مسلح حملہ آور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور وہ فائرنگ کے فوراً بعد وہاں سے فرار ہوگئے۔

قبل ازیں مسلح حملہ آوروں نے جزیرہ نما سینا میں العریش شہر کے ہوائی اڈے پر آرمی چیک پوائنٹس پر راکٹ گرینیڈوں سے حملہ کیا تھا اورغزہ کی پٹی کے ساتھ واقع رفح بارڈر کراسنگ میں مصری علاقے کی جانب ایک پولیس اسٹیشن پر راکٹ حملے میں ایک فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مصر کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے اور دارالحکومت قاہرہ میں فوج کی مظاہرین پر فائرنگ سے تین افراد مارے گئے ہیں۔تاہم فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کی تردید کی ہے۔

مصر کی سکیورٹی فورسز نے غزہ کی پٹی کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ اچانک غیر معینہ مدت کے لیے بند کردی ہے۔ انھوں نے یہ فیصلہ مصر کے علاقے جزیرہ نما سینا میں مسلح افراد کے سکیورٹی تنصیبات اور اہلکاروں پر حملوں کے بعد کیا ہے۔

العریش کے ہوائی اڈے پراس حملے کے بعد مصری فوج نے صوبہ سویز اور جنوبی سینا میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ مسلح افراد نے مسلح افواج کے ہاتھوں جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کی برطرفی کے ردعمل میں حملے کیے ہیں یا ان کا کوئی اور محرک ہے۔

غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں نے رفح بارڈر کراسنگ کی اچانک بندش پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور سرحد کے دونوں جانب بیسیوں فلسطینی پھنس کررہ گئے ہیں۔ واضح رہے کہ مصر نے 2011ء میں چار سال کے بعد غزہ کی سرحد پر واقع رفح بارڈر کراسنگ مستقل طور پر دوبارہ کھولی تھی تاکہ فلسطینی وہاں سے آزادانہ طورپر مصر آ اور جا سکیں۔

مصری حکومت کے فیصلے کے تحت رفح کراسنگ روزانہ آٹھ گھنٹے کے لیے کھولی گئی تھی۔ البتہ جمعہ اور سرکاری تعطیل کے دنوں میں یہ بند ہوتی ہے لیکن اس کے بعد سے متعدد مرتبہ اس کو مسلح افراد کے حملوں یا دیگر اسباب کی بنا پر بند کیا جا چکا ہے۔

مصر کی سکیورٹی فورسز فروری 2011ء میں سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جزیرہ نما سینا میں امن وامان قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس علاقے میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں اور فلسطینی تنظیموں نے اپنا اثر ورسوخ قائم کررکھا ہے اور وہ وقفے وقفے سے مصری فورسز یا سرحد پار اسرائیلیوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔