احمد عاصی الجربا شام کے مرکزی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ منتخب

نئے سربراہ کا شمار نامور سیاسی اسیران میں ہوتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام کے حکومت مخالف قومی اتحاد نے احمد عاصی الجربا اپنا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ یہ انتخاب ترکی کے شہر استنبول میں ہفتے کے روز کیا گیا۔

سعودی عرب نوازعاصی الجربا شام کے بزرگ منحرف سیکولر رہنما میشل کیلو کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے گہری تقسیم کے شکار 114 رکنی شامی قومی اتحاد کی سربراہی کا انتخاب 55 ووٹ لیکر جیتا۔

انہوں نے شامی اپوزیشن اتحاد میں قطر نواز کاروباری شخصیت مصطفی صباغ کو شکست دی۔ اتحاد کے ایک سنیئر عہدیدار ادیب شیشکلے نے انتخابی نتیجے پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کو بتایا کہ "تبدیلی ضروری تھی۔"

"اتحاد کی پرانی قیادت اندرونی سیاست میں زیادہ الجھ جانے کی وجہ سے شامی عوام کو کچھ ٹھوس مدد دینے میں ناکام رہی۔ احمد الجربا، سب لوگوں کے ساتھ ملکر کام کرنے کو تیار ہیں۔"

رواں سال ماہ مئی میں شامی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ احمد معاذ الخطیب کے استعفی کے بعد سے بشار الاسد کے سیاسی مخالفین اپنی سمت کھو چکے تھے۔ احمد الخطیب نے شام میں جاری خانہ جنگی کے بارے میں دنیا کی عدم توجہیی پر بطور احتجاج اتحاد کی قیادت سے استعفی دیا تھا۔

اتحاد کے نئے سربراہ کا انتخاب امسال مئی کے اواخر میں ہونا تھا لیکن اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے متضاد اراء اور خطے کے دیگر ممالک کی طرف سے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کی وجہ سے اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات آٹھ دن بعد تعطل کا شکار ہو گئے۔

ہفتے کے روز ہونے والے انتخاب میں صدر کے علاوہ اتحاد کے دیگر عہدیداروں کا چناو بھی عمل میں آیا۔ سہیر عطاسی، محمد فاروق طیفور اور سلیم مسلط

شامی قومی اتحاد کے نائب صدور منتخب ہوئے جبکہ بدر جاموس کو اتحاد کا جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ شامی قومی اتحاد کو دسیوں ملک اور انجمنیں شامی عوام کا حقیقی نمائندہ فورم تسلیم کر چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں