حمص: سرکاری افواج کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال

روس کی طرف سے جنگ زدہ شہریوں کی مدد کی مخالفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شام میں صدر بشارالاسد کے زیر کمان سرکاری فوج نے باغیوں سے حمص کا قبضہ چھڑانے کے لیے شہرپر کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال شروع کردیا ہے۔ اسد نواز فورسز نے حمص کے قدیمی شہر اور اس کی کئی کالونیوں پر کیمیائی بموں کی بارش کی ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکتوں کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے سے جاری بمباری کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق سرکاری فوج نے حمص کو"فتح" کرنے کے لیے شہر پر "ہاون"، گراڈ اور آکسیجن روکنے والے بم بڑی مقدار میں پھینکے ہیں۔ سرکاری فوج کے جنگی وقفے وقفے سے شہر پر بمباری کر رہے ہیں۔

سرکاری فوجیں حمص کے مضافات میں النزہ، الزھراء، باب السباع، تاریخی قلعہ اور پولیس سینٹر میں قلعہ بند ہیں جہاں سے توپخانے کے ذریعے حمص کے اندر گولے داغے جا رہےہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق حمص میں الجورہ الشیاح، القصور، الخالدیہ اور باب ھود پر بمباری کرکے درجنوں مکانات زمین بوس کر دئیے ہیں ، جس کے نتیجے میں شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کالونیوں میں جیش الحرسرکاری فوج کا پامردی سے مقابلہ کر رہی ہے تاہم سرکاری فوجیں بمبار طیاروں کی چھتری تلے پیش قدمی کی کوشش کر رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شدید بمباری کے نتیجے میں شہرکی بیشتر کالونیوں کا مواصلاتی رابطہ منقطع ہوچکا ہے اور متاثرہ علاقوں میں ادویہ، خوراک اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کا سنگین بحران ہے۔

درایں اثناء شام میں انقلابیوں کی نمائندہ "قومی عبوری کونسل" نے عالمی برادری سے ایک مرتبہ پھرمدد کی درخواست کی ہے۔ قومی کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسد نواز فوجیں ہرصورت میں حمص پرقبضہ کرنا چاہتی ہیں۔ اسدی فوج اور ان کے حامی ملیشیا کا مقابلہ مُٹھی بھرمجاہدین کر رہے ہیں، جن کے پاس اسلحہ کی شدید قلت ہے۔ حمص پرسرکاری قبضہ روکنے کے لیے عالمی برادری فوری طور پر جیش الحرکو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرے۔ متاثرہ شہر کے مفلوک الحال عوام اور شام کی قومی عبوری کونسل نے عالمی برادری سے مدد کی اپیلیں کی ہیں۔

شام میں باغیوں کے ترجمان" مرکزاطلاعات" کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ادھر شام کے دیگرشہروں میں بھی باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ باغیوں کی جنرل انقلابی کونسل کی جانب سے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ دمشق کے مضافات میں "القلمون" کے مقام پر زور دار دھماکے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان دارالحکومت دمشق کے آس پاس کی بستیوں میں گھمسان کی جنگ جاری ہے۔

ادلب میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی میں متعدد افراد کی ہلاکت کی خبریں ہیں جبکہ حلب شہرکی بستان الپاشا، الشیخ خضر، الصاخور اور السکری کالونیوں میں بھی سخت جھڑپیں جاری ہیں۔ سرکاری فوج نے باغیوں کو پسپا کرنے کے لیے ان شہروں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال شروع کردیا ہے۔

شام کی کورآڈینشن کونسل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ "جیش الحر" نے دمشق میں قائم فوجی جیل کے قریب سرکاری فوج کے ایک کیمپ پرحملہ کرکے اسے تباہ کردیا ہے۔

دمشق کی مشرقی کالونی جوبر اور مغربی سمت میں حیا برزہ، الحجر الاسود، الھمضیہ اور یرموک کیمپ کی حالت بھی دیگرکالونیوں سے مختلف نہیں ہے۔ یہاں پربھی بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہے۔ سرکاری فوج کی مسلسل گولہ باری کے نتیجے میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور امدادی اداروں کو متاثرین تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔


درایں اثناء روس نے سلامتی کونسل کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کی مخالفت کی ہے جس میں عالمی ادارے نے ریلیف ایجنسیوں کے رضاکاروں کو حمص کے متاثرین کی فوری مدد کے لیے شہرمیں بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روسی مخالفت کے بعد عالمی امدادی مشن کی حمص روانگی التواء کا شکار ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حمص شہر میں جنگ سے متاثرہ 2500 افراد شہرسے نقل مکانی کے دوران سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان پھنس چکے ہیں، جن کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انسانی بنیادوں پر مشکلات سے دوچار حمص کے ان باشندوں کی مدد کی فوری ضرورت ہے تاکہ انہیں وہاں سے نکال کر محفوظ مقامات پرمنتقل کیا جاسکے۔

"یو این" کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ریلیف ایجنسیوں نے حمص کے 40 ہزارمتاثرین کے لیے خوراک اور ادویہ کا بڑا ذخیرہ جمع کیا ہے لیکن روس سمیت بعض دوسرے ملکوں کی مخالفت کے باعث یہ امدادی سامان متاثرین تک نہیں پہنچنے دیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں