مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں17 افراد ہلاک

قاہرہ، اسکندریہ اور دوسرے شہروں میں نماز جمعہ کے بعد متحارب گروہوں میں لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم 17 افراد ہلاک اور دو سو دس زخمی ہوگئے ہیں۔

مصر کے جمہوری طور پر منتخب پہلے صدر کی برطرفی کے خلاف ان کے حامی احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ ان کے مخالفین بھی سڑکوں پر آ کر ان کے اقتدار کے خاتمے پر جشن منا رہے ہیں۔

قاہرہ اور مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں آج نماز جمعہ کے بعد مرسی کے حامی مظاہرین اور ان کے مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور انھوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا اور پٹرول بم پھینکے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق اسلامی جماعتوں کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد قاہرہ میں دریائَے نیل پر پل کو عبور کرکے مشہور میدان التحریر میں آ گئی اور ان کی وہاں اور سرکاری ٹی وی کی عمارت کے باہر جمع مرسی مخالفین کے ساتھ دھینگا مشتی ہوئی ہے۔

العربیہ کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ 6 اکتوبر پل کے نزدیک سے فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی تھیں اور وہاں آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے۔ یہ پل شہر میں میدان التحریر کی جانب جانے کا اہم راستہ ہے۔

محمد مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے والی تمرد (باغی) تحریک کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں عبدالمنعم اسکوائر میں اس کے چار حامی زخمی ہوگئے ہیں۔مختلف میڈیا ذرائع کے مطابق مصر کے آٹھ صوبوں میں فوج اور برطرف صدر کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔مصر کی وزارت صحت کے ذرائع نے ان جھڑپوں میں دس افراد کی ہلاکت اور دوسو دس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

قبل ازیں مصری دارالحکومت میں ری پبلکن گارڈ کے ہیڈکوارٹرز کے باہر فوج اور مرسی کے حامی اسلامی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی تھی اور فوج نے مبینہ طور پر فائرنگ کرکے تین مظاہرین کو ہلاک کردیا۔تاہم فوجی ذرائع نے مظاہرین پر گولی چلانے کی تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں