اخوان المسلمون کے مزید تین رہ نماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

عریان، حجازی اور بلتاجی پرمظاہرین کے قتل پراُکسانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصرکے سابق معزول صدر ڈاکٹر محمد مُرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے بعد ان کی جماعت اخوان المسلمون کے قائدین پرعتاب کا ایک نیا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ جماعت کی مرکزی قیادت کی گرفتاری اوران سے تفتیش کے بعد اب مزید کئی دوسرے رہ نماؤں کی اندھا دھند گرفتاریاں جاری ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دارالحکومت قاہرہ میں ایڈووکیٹ تامرالعربی کی زیرنگرانی قائم پراسیکیوشن دفتر نے جماعت کےنائب مرشد عام انجنیئر خیرت الشاطر اور سابق مرشد عام مہدی عاکف سے تفتیش کے بعد ڈاکٹر محمد البلتاجی، ڈاکٹرعصام العریان اور صفوت حجازی کی فوری گرفتاری کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اخوان کے ان رہ نماؤں پرالزام ہے کہ انہوں نے سابق صدر کے خلاف احتجاج کے دوران المقطم شہرمیں جماعت کے مرکز کے سامنے مظاہرین کے قتل کی ترغیب دی تھی۔ تاہم اخوان المسلمون کا موقف ہےکہ المقطم میں بلوائیوں نے جماعت کے مرکز دعوت وارشاد پر دھاوا بول دیا تھا اور دفتر کوآگ لگا دی تھی۔ جماعت کے کارکنوں نے دفتر کوبچانے کے لیے مظاہرین کو پیچھے ہٹانے کی کارروائی کی تھی۔

مصری روزنامے "الیوم السابع" کے مطابق جماعت کے ایک سرکردہ رہ نما مصطفیٰ محمد المعروف " اخوانی نشانچی" کے عدالت دیے گئے اقبالی بیان کے بعد پراسیکیوشن حکام نے سابق مرشد عام مہدی عاکف سے مزید پوچھ گچھ کی ہے۔ مصطفیٰ محمد نے اپنے اعترافی بیان میں تسلیم کیا ہے کہ المقطم میں جماعت کے مرکز پربلوائیوں کے حملے کے دوران اُنہیں اعلیٰ قیادت کی جانب سے اپنے دفاع کے لیے اسلحے کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی اور جماعت ہی کی جانب سے دفترمیں موجود کارکنوں کو اسلحہ پہنچایا بھی گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مصطفیٰ محمد نے پہلے تو مظاہرین کے قتل پر اُکسانے والے قائدین کا نام بتانے سے انکار کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ المقطم میں اخوان المسلمون کے ہیڈ کواٹرز میں ان کے ہمراہ 250 دیگر ارکان بھی موجود تھے۔ ان کے پاس کارتوس رائفلیں اور خود کار بندوقیں بھی تھیں۔ بلوائیوں کا حملہ روکنے کے لیے دفترکی بیرونی دیوار میں بجلی کا کرنٹ بھی چھوڑا گیا تھا۔

مصطفیٰ محمد نے مزید بتایا کہ حکومت مخالف مظاہرین کا دھاوا بولنے کے بعد دفتر کے اندرموجود کارکنوں نے عقبی دروازے سے فرار کی کوشش کی تاہم مظاہرین نے انہیں وہیں پر پکڑ لیا۔ بعد ازاں انہیں پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

جماعت کے سابق مرشد عام مہدی عاکف نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ "میں ایک عمررسیدہ شخص ہوں جو چلنے پھرنےکی سکت بھی نہیں رکھتا۔ ڈاکٹر محمد بدیع کے مرشد عام منتخب ہونے کے بعد میں کسی اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوا۔ یوں میرا اخوان المسلمون سے تعلق تقریبا ختم ہوچکا ہے"۔ مہدی عاکف کا کہنا تھا کہ "میں ملک میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں اور اس کا رد عمل صرف ٹی وی اسکرین پر دیکھ رہا تھا، میرا ان تمام ناخوش گوار واقعات سےکوئی تعلق نہیں ہے"۔ سابق مرشد عام کے اس بیان اور پیرانہ سالی کے باوجود مصری پراسیکیوٹر جنرل نے اُنہیں پندرہ دن کے ریمانڈ پرپولیس کے حوالے کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں