سعودی سپریم کورٹ کی عوام کو ماہ صیام کا چاند دیکھنے کی ہدایت

ماہرین فلکیات کی نو جولائی کو یکم رمضان کی پیشگوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ پیر [آٹھ جولائی] کی شام سنہ 1434ھ کے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی تیاری کریں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق براہ راست مشاہدے کے علاوہ روئیت ہلال کے لئے دوربین کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔ چاند نظرآنے کی صورت میں گواہی مقامی عدالت میں دی جائے گی۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں رویت ہلال کے طریقہ کارمیں نہ صرف ماہرین فلکیات اور علماء کے مابین اختلافات ہیں بلکہ خود علماء کا ایک گروپ بھی دوربین کی مدد سے چاند دیکھنے کا قائل نہیں ہے۔

ماہرین فلکیات نے وسط شعبان میں منگل نو جولائی کو پہلے روزے کی پیشگوئی کی تھی۔ ماہر فلکیات ڈاکٹر خالد الزعاق نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ماہ صیام کی روئیت ہلال سے متعلق عالم اسلام میں پائے جانے والے اختلافات حسب سابق بھی برقرار رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ فلکی کیلنڈر کے مطابق پیر کی شام رمضان المبارک کا چاند نظرآنے کا امکان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک سائنسی آلات کو رویت ہلال کے لیے استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ علماء متفق ہوں تو سائنس سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ ابھی تک تو لوگوں کی شہادت کو رد کرنے کے لیے بھی سائنسی مشینری کو استعمال میں نہیں لایا گیا، حالانکہ کئی بار مجرد رویت سائنسی منطق کے بھی خلاف ہوتی رہی ہے۔

سعود عرب میں روئیت ہلال کا اہتمام اگرچہ پوری مملکت میں ہوتا ہے لیکن "السدیر" شہر روئیت ہلال کے حوالے سے اپنی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ شہر دارالحکومت ریاض سے ایک سو اسی کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے، جہاں سے اکثر چاند کے نظرآنے کی شہادتیں موصول ہوتی ہیں۔ کئی بار ماہرین فلکیات نے چاند کے نظرنہ آنے کی پیش گوئی کی لیکن السدیر سے روئیت ہلال کی درجنوں شہادتیں آتی رہیں جنہوں نے فلکی پیشگوئی کو غلط ثابت کیا ہے۔

اس حوالے سے السدیر کے ایک شہری عبداللہ بن محمد الخضیری نے روئیت ہلال کے حوالے سے خاصی شہرت پائی ہے۔ الخضیری نے متعدد مرتبہ ماہرین فلکیات کے دعوؤں کے برعکس چاند دیکھ کر انہیں حیران کر دیا۔

الخضیری کا کہنا تھا کہ ماہ صیام کے رویت ہلال کے حوالے سے علماء کی صفوں میں اختلاف اچھی بات ہے۔ اس اختلاف کے نتیجے میں عوام کو حقیقت تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے، تاہم کچھ لوگ میڈیا پرسستی شہرت کے حصول کے لیے اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ اُنہیں نہ تو دینی تعلیم پردسترس ہوتی ہے اور نہ ہی وہ فلکی امور کے بارے میں کچھ جانکاری رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی افتاء کونسل نے دس سال پیشتر ٹیلی سکوپ یا دوربین کی مدد سے چاند دیکھنے کی اجازت دیتے ہوئے سائنسی روئیت کو تسلیم کیا تھا۔ سعودی ماہر فلکیات عبدالعزیز الشمری نے بتایا کہ پچھلے دس سال سے مجلس شوریٰ کی تشکیل کردہ کمیٹیاں روئیت ہلال کے لیے ٹیلیسکوپ کا استعمال کرتی آ رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں