.

مصری فوج کا اسلام پسند مظاہرین کے خلاف غیرمعمولی اقدام نہ کرنے کا اعلان

ترجمان کا بے گناہ لوگوں پر فائرنگ کے واقعے میں فوجیوں کے کردار سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج نے قاہرہ میں برطرف صدر کے حامی مظاہرین پر فائرنگ کے واقعے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ''اگلے مرحلے میں کسی مصری کے خلاف کوئی غیر معمولی اقدام نہیں کیا جائے گا''۔

قاہرہ میں ری پبکن گارڈ کے ہیڈکوارٹرز کے باہر سوموار کو پیش آئے تشدد کے الم ناک واقعے کے بعد فوج کے ترجمان کرنل احمد علائی نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ مسلح افواج کا کام مصری شہریوں کا تحفظ ہے۔انھوں نے بے گناہ لوگوں پر فائرنگ کےواقعے میں فوجیوں کے کردار سے انکار کیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ''فوج کے ضبط وتحمل کی بھی حدود وقیود ہیں''۔انھوں نے فوجی تنصیبات کی جانب آنے والوں یا قومی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب بننے والے عناصر کو خبردار کیا ہے۔

کرنل علائی نے نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں کو ایک فوٹیج بھی دکھائی جس میں باریش مسلح افراد نزدیکی عمارتوں سے مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر کی جانب گولیاں چلا رہے تھے اور ان پر پتھراؤ بھی کررہے تھے۔

دوسری جانب اخوان المسلمون نے فائرنگ کے واقعے میں کسی قسم کے کردار سے انکار کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر نمازفجر کے دوران مسلح افراد نے اس کے کارکنوں پر فائرنگ کی تھی اور اس کے نہتے کارکنوں کا قتل عام کیا گیا ہے۔

فائرنگ کے اس واقعے کے بارے میں مصری فوج اور اخوان المسلمون نے الگ الگ موقف پیش کیا ہے۔فوج نے ''دہشت گردوں'' پر فائرنگ کا الزام عاید کیا ہے جبکہ اخوان المسلمون کے حامیوں سمیت عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے انتباہی فائر کیا تھا اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے لیکن سادہ کپڑوں میں ملبوس ''ٹھگوں'' نے پرامن مظاہرین کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔

قاہرہ میں ری پبلکن گارڈ کے ہیڈکوارٹرز کے باہر منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر مسلح حملے میں اکاون افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔اس واقعہ کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جارہی ہے۔جرمنی نے تشدد کے اس واقعے پر ''صدمے'' کا اظہار کیا ہے۔ترکی نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت پر حملہ قرار دیا ہے اور اخوان المسلمون کے حامی ملک قطر نے فریقین سے ضبط وتحمل اور اتحاد کا مظاہرہ کرنے پر زوردیا ہے۔

واضح رہے کہ اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی جماعتوں کے کارکنان گذشتہ بدھ کو منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کی حکومت کا فوج کے ہاتھوں تختہ الٹنے کے خلاف قاہرہ اور دوسرے علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔محمد مرسی اپنی برطرفی کے بعد سے کسی نامعلوم مقام پر نظر بند ہیں۔انھوں نے اپنے حامیوں سے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ پُرامن طور پرفوجی اقدام کے خلاف احتجاج کریں اور تشدد کی راہ نہ اپنائیں۔