.

شام کے نائب صدر سمیت حکمراں بعث پارٹی کی قیادت تبدیل

بشار الاسد سیکرٹری جنرل کے عہدے پر برقرار، نئے نوجوان عہدے داروں کا انتخاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی حکمراں بعث پارٹی نے نائب صدر فاروق الشرع سمیت جماعت کی اعلیٰ قیادت کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بعث پارٹی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان کے مطابق :''جماعت کی مرکزی کمیٹی کا سوموار کی صبح ایک طویل اجلاس ہوا ہے جس میں نئی قومی قیادت کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے''۔

ویب سائٹ نے نئی قیادت کے سولہ ارکان کے نام شائع کیے ہیں لیکن ان میں صدر بشارالاسد کے سوا کوئی سابق عہدے دار شامل نہیں ہے۔بشار الاسد بدستور پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہیں گے۔

شام کے نائب صدر فاروق الشرع کو جماعت کا کوئی عہدہ نہیں دیا گیا۔تاہم وہ بدستور نائب صدارت پر فائز رہیں گے۔پارٹی کے نئے عہدے داروں میں پارلیمان کے سربراہ جہاد الہام اور وزیراعظم وائل الحلقی شامل ہیں۔

دمشق مرکز برائے تزویراتی مطالعات کے ڈائریکٹر باسم ابو عبداللہ کا کہنا ہے کہ ''بعث پارٹی کی قیادت میں تبدیلی سے عیاں ہے کہ جماعت کے اندراختلافات پائے جاتے ہیں۔نچلی سطح سے بالائی قیادت پر بہت تنقید کی گئی ہے اور اس پر بحران سے پہلے اور بعد میں غیرلچک دار ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ '' بعث پارٹی کی تمام قیادت میں تبدیلی اس کی ناکامی کی بھی مظہر ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بعث پارٹی کی صفوں میں بے چینی پائی جاتی ہے''۔

شام کے ایک اور تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ''مکمل تبدیلی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سابقہ قیادت کوئی اقدام کرنے اورملک میں جاری بحران سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے''۔اس تجزیہ کار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بعث پارٹی کے نئے عہدے داروں میں مصر میں شام کے سابق سفیر یوسف احمد بھی شامل ہیں''۔شام کی حکمراں جماعت نے ایسی نوجوان قیادت کا انتخاب کیا ہے جو عالمی سطح پر جانی پہچانی ہے۔

واضح رہے کہ بعث پارٹی 8 مارچ 1963ء سے شام میں برسر اقتدار ہے اور وہ ملک کی سب سے طاقتور جماعت ہے۔آج 2005ء کے بعد پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس ہوا ہے۔تب بھی بعث پارٹی کی نئی قیادت کا انتخاب کیا گیا تھا۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ شام کے سراغرساں اداروں میں سے کسی عہدے دار کا بعث پارٹی کے کسی عہدے کے لیے انتخاب نہیں کیا گیا ہے۔

شام کی حکمراں جماعت کو ملک میں مارچ 2011ء سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کی وجہ سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔شامی قیادت نے پرامن مظاہروں سے شروع ہونے والی اس تحریک سے نمٹنے کے لیے طاقت کا سہارا لیا جس کے بعد یہ تحریک دوماہ کے بعد ہی تشدد کا رخ اختیار کر گَئی اور اب سوادوسال کے بعد شام میں جاری خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔