.

"اخوان کی آمرانہ روش تنظیم کی سیاسی موت کا موجب بنی"

جماعت کے منحرف ارکان موجود قیادت پر برس پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں ایک سال تک برسراقتدار رہنے والی ملک کی سب سے بڑی اور منظم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے خلاف 'عوامی بغاوت' اور جماعت کے زوال کے اسباب ملکی سیاست کا سب سے اہم موضوع ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے اسی ضمن میں اخوان قیادت کی سیاسی کمزوریوں پر جماعت کے سابق ارکان سے گفتگو کی جس میں تنظیم سے ناراض رہ نماؤں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ "قیادت کی آمرانہ سیاسی حکمت عملی جماعت کی سیاسی موت کا باعث بنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مصری عوام میں اخوان کی شناخت ایک "جاہل" اور "دہشت گرد" گروپ کے روپ طور پر ہو رہی ہے۔ غلط پالیسیوں کے باعث جماعت کی سیاست موجودہ انجام سے دوچار ہوئی۔ اپنے دور حکومت میں اخوان المسلمون نے ایک سال تک عوام کو کھوکھلے وعدوں میں بہلانے کے سوا عملاً انہیں کچھ بھی نہیں دیا ہے۔ جماعت کا یہ طرز عمل تیس جون کی بغاوت کا سبب بنا ہے۔

اخوان المسلمون سے علاحدگی اختیار کرنے والے ایک سابق رکن ڈاکٹر ثروت الخرباوی نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اخوان المسلمون کی موجودہ قیادت نے بے شمار غلطیاں کیں جن کے نتیجے میں آج جماعت کی سیاسی موت واقع ہوچکی ہے۔ پیش آئندہ ملکی سیاست میں اخوان المسلمون نامی کسی تنظیم کا کوئی وجود نہیں ہوگا"۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الخرباوی کا کہنا تھا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اخوان المسملون کی جانب سے عوام سے بلند بانگ دعوے اور وعدے کیے گئے، لیکن ایک سال گذر جانے کے باوجود جماعت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترسکی ہے۔ اس وقت جماعت لوگوں میں اسی طرح ناپسندیدہ ہوچکی ہے جس طرح سابق معزول صدر حسنی مبارک اور ان کی باقیات عوام میں ناپسندیدہ ہیں۔

ڈاکٹر الخرباوی نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جماعت نے اقتدار سنھبالنے کے بعد ملک میں اختیارات کے تمام سرچشموں پر کنڑول کی کوشش کی اور دوسری سیاسی جماعتوں سے سیاسی اختلافات کو تنازعات کی حد تک بڑھا لیا۔ عوامی مطالبات نظرانداز کئے۔ اس کی پاداش میں سیاسی مخالفین سے پہلے عوام نے خود ہی جماعت سے انتقام لے لیا ہے۔

اخوان المسملون کے سابق رہ نما نے جماعت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اخوان نے سیاست اور مذہب دونوں کو کھیل تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے بعد جماعت کے خلاف عوام کی بغاوت ایک فطری ردعمل ہے۔

"بھائی چارہ" اور "مسلمانیت" کہاں؟

اخوان المسلمون کے ایک اور ناراض رہ نما ڈاکٹر عبدالستار الملیجی نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا: "کہ اخوان المسلمون بھائی چارے اور سچے اور کھرے اسلام کی داعی ہے۔ موجودہ قیادت میں مجھے بھائی چارے اور مسلمانیت کی کوئی صفت دکھائی نہں دیتی۔ اس وقت یہ جماعت [اخوان المسلمون] ایک "تکفیری" گروپ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔

ڈاکٹر الملیجی نے مزید کہا کہ تیس جون کی عوامی بغاوت نے اخوان المسلمون کو تا قیامت مصری معاشرے سے باہر پھینک دیا ہے۔ ماضی میں یہ جماعت حکمرانوں کی جانب سے "کالعدم " قرار دی گئی تھی اور اب عوام نے اسے "کالعدم" قرار دے دیا ہے۔

بانی جماعت کی تعلیمات سے اغماص

اخوان المسلمون کے کئی اہم تنظیمی عہدوں پرفائز رہنے والے سابق رہ نما ڈاکٹر کمال الھلباوی نے کہا کہ مصری عوام کے طرز سیاست اور اخوان کے انداز سیاست میں نمایاں فرق ہے۔ جنوری سنہ 2011ء کے انقلاب کا تقاضا یہ تھا کہ جماعت انقلابیوں کی توقعات کا خاص خیال رکھتی، لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ موجودہ قیادت اپنا سیاسی قد کاٹھ کو اونچا کرنے میں مصروف رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں الھلباوی کا کہنا تھا کہ جماعت کی موجودہ قیادت اس کے بانی محمد حسن البناء شہید کی تعلیمات سے انحراف کر رہی ہے۔ امام البناء کی سیاست دعوت پرمبنی تھی اور جماعت کے موجودہ تنظیمی ڈھانچےمیں اصلاح معاشرہ اور دعوت و تبلیغ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

ڈاکٹرالھلباوی کا مزید کہنا تھا کہ اخوان المسلمون ایک معتدل جماعت کے طور پر جانی جاتی تھی لیکن سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف عوامی بغاوت کے دوران جماعت نے شدت پسندی اور انارکی کو ہوا دینے کا راستہ اپنایا، جس سے عوام میں جماعت کی سیاسی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی ہے۔


عوام کوسمجھنے میں ناکامی

اخوان المسلمون کے ایک اور اہم سابق لیڈر عبدالمنعم ابو الفتوح نے معزول صدر ڈاکٹرمحمد مرسی کےخلاف عوامی بغاوت پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جماعت عوام کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔ اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ "میں نے جماعت کو اس لیے خیرباد کہا تھا کیونکہ موجودہ قیادت جمہوریت پر یقین نہیں رکھتی۔ ڈاکٹر محمد مرسی کےایک سالہ دور حکومت نے میرے اس دعوے کوسچ ثابت کیا ہے"۔

ایک غیرملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں مسٹر الفتوح کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر محمد مرسی ملک کو اپنی جماعت کے تنظیمی طریقہ کار کےمطابق چلانا چاہتے تھے۔ انہوں نے میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کے بجائے"ذاتی اعتماد" کو فوقیت دی اور اس کے سنگین نتائج سامنےآئے۔

ڈاکٹر ابو الفتوح کا کہنا تھا کہ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کا صدر کس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے اور ان کی پارٹی کے نظریات کیا ہیں۔ عوام صرف اپنی آزادی، خود مختاری، معیشت کی مضبوطی اور عالمی سطح پر اپنا وقار بلند دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عوام کا صدر مرسی کے خلاف غصہ ان کی ناکام معاشی پالیسیوں کا بھی نتیجہ ہے۔ اس کےعلاوہ انہوں نے اخوان المسلمون کے لوگوں کو ایوان صدر اور دیگر اعلیٰ محکموں میں تعینات کرکے دیگر طبقات کو مایوس کیا تھا۔