.

غسان ہیٹو کی شام میں عبوری حکومت کی تشکیل سے معذرت

انقلابی دھڑوں کی صفوں میں اتحاد کی فضاء پیدا کرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کے ایک سرکردہ رہ نما غسان ھیٹو نے انقلابی دھڑوں پر مشتمل قومی عبوری حکومت کی تشکیل میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اس ذمہ داری سے سبکدوشی کا اعلان کیا ہے۔

مسٹر ھیٹو نے قومی حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری سے معذرت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے تمام دھڑوں میں پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرنے اور اتحاد واتفاق کی فضاء پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یاد رہے کہ غسان ھیٹو کو شامی نیشنل الائنس نے 18 مارچ کو تمام انقلابی دھڑوں سے ملاقاتوں کے بعد عبوری حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ "فیس بک" پرایک مختصر بیان میں مسٹر ھیٹو کا کہنا تھا کہ "ملک میں قومی عبوری حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری سونپے جانے کے بعد میں نے اندرون ملک انقلابیوں کے زیرکنٹرول علاقوں اور بیرون ملک موجود قیادت سے بھی کئی ملاقاتیں کی ہیں، لیکن ملک کی موجودہ صورت حال جو سب کے سامنے ہے مجھے اس ذمہ داری سے عہد برا ہونے کی اجازت نہیں دیتی، جس کے بعد میں آئندہ اس ذمہ داری سے معذرت کروں گا"۔

غسان ھیٹو نے اپوزیشن کی صفوں میں پائے جانے والے اختلافات کا برملا اعتراف کیا اور کہا کہ بالعموم تمام انقلابی دھڑوں بالخصوص قومی عبوری اتحاد کی صفوں میں اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جب تک اپوزیشن کی اندرون اور بیرون ملک قیادت میں اتحاد قائم نہیں ہوتا قومی عبوری حکومت کا خواب بھی پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "گوکہ میں قومی حکومت کی تشکیل کی ذمہ داریاں پوری نہیں کرسکا ہوں لیکن انقلاب کا تقاضا یہ ہے کہ عبوری حکومت کی تشکیل کی مساعی کسی نہ کسی شکل میں جاری رکھی جائیں اوراس مقصد کے لیے تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے۔

خیال رہے کہ وسط مارچ کے بعد سے غسان ہیٹو نے حمص، ادلب اور حلب جیسے کئی بڑے شہروں میں موجود شامی قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں تاکہ ملک میں ٹیکنوکریٹ پر مشتمل جزوقتی عبوری حکومت کی تشکیل عمل میں لائی جاسکے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ ہیٹو کو انقلابی دھڑوں کی جانب سے وہ حمایت نہیں مل سکی ہے جس کے وہ خواہاں ہیں۔