.

بیروت:حزب اللہ کے مضبوط گڑھ کے نزدیک کار بم دھماکا،53 افراد زخمی

جائے وقوعہ پر آنے والے لبنانی وزیرداخلہ پرعلاقے کے مکینوں کا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے نواحی علاقے میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مضبوط گڑھ میں ایک کار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں ترپین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

حزب اللہ کے المنار ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق منگل کو ایک اسلامی مرکز کے نزدیک پارکنگ ایریا میں کار بم دھماکا ہوا ہے۔اس کے بعد وہاں سے دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

واقعے کے فوری بعد تنظیم کے جنگجوؤں نے علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ کے کارکنان نے میڈیا کے نمائندوں کو بم دھماکے کی جگہ کے قریب نہیں جانے دیا۔

لبنان کے وزیر صحت علی حسن خلیل نے بم دھماکے میں تریپن افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان میں سے اکتالیس کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔بارہ افراد کو معمولی زخم آئے ہیں۔حزب اللہ کے رکن پارلیمان علی عمارکا کہنا ہے کہ بم دھماکے میں ان کی جماعت کا کوئی کارکن زخمی نہیں ہوا۔

لبنانی وزیر داخلہ مروان شربیل نے کار بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور اسے ایک مجرمانہ کارروائی قرار دیا ہے۔انھوں نے جائے وقوعہ کے دورے کے موقع پر کہا کہ اس حملے کا مقصد اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان فرقہ واریت کے بیج بونا ہے۔

علاقے کے مکینوں نے لبنانی وزیر داخلہ پر جائے وقوعہ کے دورے کے موقع پر حملہ کردیا اور ان کے محافظوں نے حملہ آوروں کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی ہے۔العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ مروان شربیل ایک عمارت میں محصور ہو کر رہ گَئے تھے اور انھیں اس کے عقبی دروازے سے نکال کر وہاں سے بھگایا گیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حزب اللہ کی شام میں مسلح مداخلت اور شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں پر مشتمل جیش الحر کے خلاف لڑائی کے بعد کشیدگی پائی جارہی ہے۔حزب اللہ کو شام میں مداخلت پر مختلف ممالک کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے جنگجو بلا روک ٹوک شام میں جاری خانہ جنگی میں شریک ہیں۔