.

مصر کا عبوری آئین "آمرانہ" ہے: تمرد تحریک

عبوری صدر کے لیے بہت زیادہ اختیارات انقلاب کے لیے دھچکا ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف احتجاجی مہم چلانے والی تمرد (باغی) تحریک نے عبوری صدر کے اعلان کردہ آَئینی اعلامیے کو ''آمرانہ'' قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

تمرد نے اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر جاری کردہ بیان میں لکھا ہے کہ''آئینی اعلامیے کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ایک نئی آمریت کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور ہم فوج کے مقرر کردہ عبوری صدر کے حوالے ہوجائیں گے''۔

عبوری صدرعدلی منصور نے سوموار کوعبوری آئینی اعلامیے کا اعلان کیا تھا۔اس میں صدر کے اختیارات کا تعین کیا گیا ہے اورانتقال اقتدار کے لیے نظام الاوقات دیا گیا ہے جو قریباً چھے ماہ کو محیط ہوگا اور اس دوران صدارتی انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔

تمرد گروپ کے مطابق آئینی اعلامیے میں عبوری صدر کو بہت زیادہ اختیارات دے گئے ہیں اور یہ انقلاب کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں۔

واضح رہے کہ تمرد تحریک نے مصر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک چلائی تھی اور قاہرہ سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور اس احتجاجی تحریک کے بعد مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے گذشتہ بدھ تین جولائی کو صدر محمد مرسی کو برطرف کردیا تھا۔