.

مصر میں پارلیمانی انتخابات اگلے برس ہوں گے: عدلی منصور

اخوان اور فوجی قیادت کے درمیان تفریق بڑھ رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر کی جانب سے عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ اگلے برس ہوں گے۔ دوسری جانب اخوان المسلمون نے مظاہرین کی ہلاکتوں کے بعد ایک نئے ملین مارچ احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

سیاسی عدم استحکام کے شکار عرب ملک مصر کی عبوری حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پارلیمانی انتخابات اگلے برس [سن 2014] کے اوائل میں ہوں گے۔ عبوری صدر عدلی منصور نے اس مناسبت سے فرمان جاری کر دیا ہے۔ محمد مرسی کی حکومت نے جو دستور مرتب کیا تھا، اس میں مناسب ترامیم کے لیے دو کمیٹیوں کو تشکیل دیا جائے گا جو نئی ترامیم کو تجویز کریں گی۔ ان دستوری ترامیم کی منظوری کے لیے چار ماہ کے اندر اندر ریفرنڈم کروایا جائے گا۔ ریفرنڈم کے دو مہینوں بعد پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہو گا۔ امکاناً مصر کے نئے الیکشن اگلے سال وسط فروری میں متوقع ہیں۔ پارلیمنٹ اپنے پہلے اجلاس میں صدارتی الیکشن کی تاریخ کا تعین کرے گی۔

ادھر محمد مرسی کو منصب صدارت سے برطرف کرنے کے فوجی فیصلے کی حمایت کرنے والی سخت گیر مذہبی جماعت حزب النور نے عبوری حکومت کے ساتھ نئی حکومت سازی کے لیے جاری بات چیت کو معطل کر دیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ حزب النور کو پارٹی کے اندر اور باہر سے شدید دباؤ کا سامنا ہے اور اسی باعث پارٹی لیڈرشپ نے مذاکراتی عمل معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بعض مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ اس فیصلے کی وجہ اخوان المسلمون کے مظاہرین کا قتل ہو سکتا ہے۔

صدر مرسی حکومت کے خاتمے اور عبوری حکومت کے قیام کے بعد اخوان المسلمون اور فوجی قیادت کے درمیان تفریق مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ فریڈم اور جسٹس پارٹی نے مصریوں سے کہا ہے کہ وہ فوج کے خلاف اٹھ کھڑیں ہوں۔ اس پارٹی کی قیادت نے فوج پر الزام لگایا ہے کہ فوج نے مصر کو ایک نیا شام بنانے کی کوشش کی ہے۔ مصر کی مذہبی سیاسی جماعت وسط پارٹی کے سینیئر اہلکار محمد محسوب کا کہنا ہے کہ فریقین انتہا کو پہنچ رہے ہیں اور یہ خطرناک ہے۔

دارالحکومت قاہرہ میں ری پبلکن گارڈز کمپلیکس کے سامنے اخوان المسلمون کے پچاس سے زائد مظاہرین کی ہلاکت کے حوالے سے اخوان المسلمون اور فوج کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ اس جماعت کے مطابق کمپلیکس کے سامنے کیمپ ڈالے ایک ہزار سے زائد مظاہرین کو علی الصباح بلا اشتعال فوج کی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

مصری فوج کے کرنل احمد محمد علی نے بتایا کہ ری پبلکن گارڈز کمپیلیکس کی حفاظت کے لیے مامور پولیس اور دوسرے سکیورٹی اہلکاروں پر صبح چار بجے فائرنگ شروع کر دی گئی تھی۔ کرنل احمد محمد علی کے مطابق اس فائرنگ کی زد میں آ کر ایک فوجی اور دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے علاوہ دیگر 42 سکیورٹی اہلکار زخمی ہیں۔