.

عبوری وزیر اعظم کے مصری کابینہ کی تشکیل کے لیے صلاح مشورے

برطرف صدر کے حامیوں اور مخالفین نے عبوری آئینی اعلامیہ مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری وزیراعظم نے نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے صلاح مشورے شروع کردیے ہیں لیکن انھیں سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ان دونوں فریقوں نے عبوری صدر عدلی منصور کے جاری کردہ عبوری آئینی اعلامیے کو مسترد کردیا ہے۔

مصر کی سرکاری مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی (مینا) کی اطلاع کے مطابق وزیراعظم حازم الببلاوی آج بدھ سے اپنی کابینہ کی تشکیل کے لیے مختلف رہ نماؤں اور سیاسی دھڑوں سے بات چیت کا آغاز کررہے ہیں۔

عبوری صدر کے ایک ترجمان کے مطابق وزیراعظم حازم الببلاوی اخوان المسلمون کو بھی نئی کابینہ میں شمولیت کی پیش کش کریں گے لیکن اخوان نے ایسی کسی پیش کش کو پہلے ہی ٹھکرا دیا ہے۔جماعت کے ترجمان طارق المرسی نے ایک بیان میں کہا کہ''ہم فوجی انقلاب کے بطن سے سامنے آنے والے عہدے داروں سے کوئی معاملہ نہیں کریں گے''۔

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے سابق وزیرخزانہ اور ماہر معیشت حازم الببلاوی کو گذشتہ روز ملک کا نیا عبوری وزیراعظم مقرر کیا تھا اور انھیں نئی کابینہ تشکیل دینے کی دعوت دی تھی۔ عبوری صدر نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے سابق سربراہ محمد البرادعی کو نائب صدر نامزد کیا تھا۔

ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف تحریک چلانے والے حزب اختلاف کے اتحاد قومی محاذ آزادی (این ایس ایف) نے عبوری صدر عدلی منصور کے جاری کردہ آئینی اعلامیے کو مسترد کردیا ہے اور اس میں ترامیم کا مطالبہ کیا ہے۔برطرف صدر کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون پہلے ہی عبوری آئینی اعلامیے کو مسترد کرچکی ہے۔

این ایس ایف میں شامل ایک جماعت کے عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پرکہنا ہے کہ عدلی منصور کے تینتیس دفعات پر مشتمل آئینی اعلامیے میں عبوری صدر ہی کو انتظامی اور عدالتی کے علاوہ قانون سازی کے اختیارات بھی سونپ دیے گئے ہیں۔

اتحاد کے بہت سے لیڈروں کا کہنا ہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کی فروری 2011ء میں رخصتی کے بعد فوج کی قیادت میں قائم کی گئی عبوری حکومت کی غلطیاں دُہرائی نہیں جانی چاہئیں۔

ڈاکٹر مرسی کے خلاف تحریک چلانے والے تمرد (باغی) گروپ نے بھی عبوری آئینی اعلامیے کو آمرانہ قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔

عبوری آئینی اعلامیے میں انتقال اقتدار کا نظام الاوقات وضع کیا گیا ہے۔اس کے تحت مصر میں پارلیمان انتخابات 2014ء کے اوائل میں ہوں گے اور نو منتخب اسمبلی کا اجلاس منعقد ہونے کے بعد عبوری صدر آیندہ صدارتی انتخابات کا اعلان کریں گے۔

دوسری جانب مصر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف ان کے حامیوں نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور وہ ان کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اخوان اور اس کی حامی جماعتوں کے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر مصر میں تشدد کے نئے واقعات رونما ہونے کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔

درایں اثناء انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قاہرہ میں فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر سوموار کو پیش آئے تشدد کے الم ناک واقعے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کی اپنی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا غیر متناسب استعمال کیا تھا۔