.

مصر: سیناء میں مسلح افراد کے حملے 8 افراد ہلاک و زخمی

ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جنگجوؤں کی تلاش جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شورش زدہ مصری علاقے جزیرہ نماء سیناء میں پولیس مراکز پر مسلح افراد کے تین الگ الگ حملوں میں کم سے کم دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سیناء کے ایک حملہ پولیس ہیڈ کواٹر پرکیا گیا. کچھ ہی دیر بعد ایک اور پولیس چوکی پر فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔

میڈیکل ذرائع اورسیکیورٹی حکام کے مطابق سیناء میں نامعلوم افراد کے دستی بم حملے میں ایک کار سوارعام شہری مارا گیا جبکہ مرنے والے دوسرے شخص کی شناخت نہیں ہوسکی۔ زخمی ہونے والوں میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

تیسرا حملہ فلسطینی شہرغزہ کی سرحد سے ملحقہ علاقے رفح میں کیا گیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پولیس چیک پوسٹ پر ہاون راکٹ کے علاوہ بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے جبکہ مغربی رفح کے شہر العریش میں بھی ایک پولیس سینٹرپرفائرنگ کی گئی۔

عینی شاہدین نے خبر رساں ایجنسی"رائیٹرز" کو بتایا کہ رفح میں "احراش" کے مقام پرسیکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پرحملے کے دوران دس منٹ تک فائرنگ ہوتی رہی۔ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں حملہ آور فرار ہوگئے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" نے مصری سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیناء میں مسلح جنگجوؤں نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

رفح سے مقامی صحافی احمد ابو دراع نے "العربیہ" کو بتایا کہ تیس جون کے بعد سے سیناء میں پولیس کے مرکزی ہیڈ کواٹر پربھاری ہتھیاروں سے کئی حملے ہوچکے ہیں۔

مسلح جنگجوؤں کے حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پرسرچ آپریشن شروع کیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ سیکیورٹی حکام حملہ آوروں کی تلاش کے لیے اپاچی ہیلی کاپٹروں سے رفح اورسیناء میں فضائی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ جزیرہ نما سیناء میں سیکیورٹی اہلکاروں پر بھاری ہتھیاروں سے حملوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ گذشتہ بدھ کو بھی نامعلوم مسلح جنگجوؤں نے ایک پولیس چوکی پر ہاون راکٹ داغے اور کلاشنکوف سے فائرنگ۔ واقعے کے بعد مصری بارڈر پولیس نے غزہ اور مصر کو ملانے والی اکلوتی "رفح" گذرگاہ سے شہریوں کی آمد ورفت روک دی تھی۔ توقع ہے کہ سرحد کو دوبارہ دوطرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔

حملوں میں مرسی کے حامی ملوث؟

جزیرہ نُماء سیناء میں سیکیورٹی فورسزپرحملوں کا سلسلہ تیس جون کو صدرڈاکٹرمحمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد سامنے آیا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ان حملوں کے پس پردہ سابق حکمراں مذہبی جماعت اخوان المسلمون کا ہاتھ ہے، کیونکہ اخوان کے ایک مرکزی لیڈر ڈاکٹر محمد البلتاجی نے ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کرنے اور ان کی بحالی تک سیکیورٹی فورسزپرحملے جاری رکھنے کی دھمکی دی تھی۔

رفح سے مقامی صحافی ابو دراع نے بتایا کہ ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سیناء میں فوج اور پولیس کے پندرہ مراکز کو حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ چونکہ یہ حملے محمد مرسی کی معزولی کے بعد شروع ہوئے ہیں، اس لیے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ پرتشدد کارروائیوں میں اخوان المسلمون کے حامی جنگجوؤں کا ہاتھ ہے۔

ابو دراع کے مطابق قاہرہ میں ری پبلیکن گارڈز کے ہیڈ کواٹر کے باہر ساٹھ افراد کی ہلاکتوں کے ردعمل میں سیناء کے جہادیوں نے جوابی حملوں کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔