بعث پارٹی کے ہٹائے گئے عہدے داروں نے غلطیاں کی تھیں:بشارالاسد

جہلاء اور باشعوروں اورانتہا پسندوں اور جدت پسندوں کے درمیان جنگ برپا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شامی صدر بشارالاسد کا کہنا ہے کہ حکمراں بعث پارٹی کے ہٹائے گئے لیڈروں سے غلطیاں سرزد ہوئی تھیں۔

انھوں نے یہ بات بعث پارٹی کے ترجمان اخبار کے ساتھ انٹرویو میں کہی ہے۔ان کا یہ انٹرویو جمعرات کو شائع ہوا ہے اور اس سے تین روز پہلے ہی شام کی حکمراں جماعت کے سولہ نئے عہدے داروں کا اعلان کیا گیا تھا۔ان میں صدر بشارالاسد کے سوا کوئی بھی سابقہ عہدے دار شامل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''جب کوئی لیڈر پے درپے غلطیوں کو حل نہیں کرسکتا ہے تو اس لیڈر کا احتساب کیا جانا چاہیے''۔ان کے بہ قول:''بعث پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا حقیقی کردار یہی ہے۔اس کے بارے میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے لیڈروں کا باقاعدہ احتساب کرے گی لیکن حالیہ برسوں کے دوران ایسا نہیں ہوا تھا''۔

بشارالاسد نے کہا کہ ''مرکزی کمیٹی کو قیادت کے کام کی نگرانی کرنی چاہیے ،اس کا جائزہ لینا چاہیے اور اس کے لیڈروں کا احتساب کرنا چاہیے''۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو لوگ قوم کا تحفظ کررہے ہیں،وہ کارکنان اور کاشت کار ہیں۔ان میں بعض فوج میں ہیں اور دوسرے اپنی سرزمین کا دفاع کررہے ہیں۔اس وقت جہلاء اور باشعوروں ،محب الوطنوں اور سازشیوں اور انتہا پسندوں اور جدت پسندوں کے درمیان جنگ برپا ہے''۔

اس انٹَرویو میں بشارالاسد نے اخوان المسلمون پر ایک مرتبہ پھر تنقید کی ہے اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور ایران کو سلام پیش کیا ہے۔واضح رہے کہ شامی صدر اور ان کی حکومت نے مصر میں احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اخوان المسلمون پر متعدد تنقیدی حملے کیے ہیں۔

بشارالاسد نے کہا کہ ''اخوان المسلمون مذہب سے فائدہ اٹھاتی ہے اور اس کو ایک نقاب کے طور پر استعمال کرتی ہے۔وہ یہ خیال کرتی ہے کہ اگر آپ سیاسی طور پر اس سے متفق نہیں ہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ اللہ کے ساتھ نہیں ہیں لیکن ایران اور حزب اللہ کا یہ معاملہ نہیں ہے''۔

انھوں نے اپنی اتحادی تنظیم حزب اللہ کی مدح سرائی کرتے ہوئے کہا کہ ''وہ لوگوں کو مذہب یا فرقے کی بنیاد پر جج نہیں کرتی ہے بلکہ حزب الوطنی اور سیاست کی بنیاد پر جج کرتی ہے''۔

شامی صدر نے کہا کہ ''ان لوگوں میں تمیز کی جانی چاہیے جو مذہب کو چند ایک کے مفاد میں استعمال کرتے ہیں اور جو مذہب کو نصب العین کے دفاع کے لیے استعمال کرتے ہیں اور یہ بالکل درست ہے''۔

بعث پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے گذشتہ سوموار کو نائب صدر فاروق الشرع سمیت جماعت کی اعلیٰ قیادت کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔جماعت کی ویب سائٹ پر نئی قیادت کے سولہ ارکان کے نام شائع کیے گئے تھے لیکن ان میں صدر بشارالاسد کے سوا کوئی سابق عہدے دار شامل نہیں تھا۔وہ بدستور پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہیں گے۔

فاروق الشرع کو جماعت کا کوئی عہدہ نہیں دیا گیا۔تاہم وہ بدستور نائب صدارت پر فائز رہیں گے۔پارٹی کے نئے عہدے داروں میں پارلیمان کے سربراہ جہاد الہام اور وزیراعظم وائل الحلقی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ بعث پارٹی 8 مارچ 1963ء سے شام میں برسر اقتدار ہے اور وہ ملک کی سب سے طاقتور جماعت ہے۔2005ء کے بعد پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا سوموار کو پہلا اجلاس ہوا تھا۔تب بھی بعث پارٹی کی نئی قیادت کا انتخاب کیا گیا تھا۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ شام کے سراغرساں اداروں میں سے کسی عہدے دار کا بعث پارٹی کے لیے انتخاب نہیں کیا گیا ہے۔

شام کی حکمراں جماعت کو ملک میں مارچ 2011ء سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کی وجہ سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔شامی قیادت نے پرامن مظاہروں سے شروع ہونے والی اس تحریک سے نمٹنے کے لیے طاقت کا سہارا لیا جس کے بعد یہ تحریک دوماہ کے بعد ہی تشدد کا رخ اختیار کر گَئی اور اب سوادوسال کے بعد اس خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں