شامی باغیوں کو عرب ریاستوں سے بھیجے گئے ہتھیار مل گئے

ہتھیاروں سے جیش الحر کے جنگجوؤں کو قدم جمانے کا موقع ملے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شامی باغیوں نے عرب ریاستوں کی جانب سے بھیجے گئے ہتھیار ملنے کی تصدیق کردی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار میدان جنگ میں طاقت کا توازن تبدیل کردیں گے۔

العربیہ ٹی وی نے شامی باغیوں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ''ان ہتھیاروں سے جیش الحر اسدی فورسز کے خلاف جوابی حملوں کے قابل ہوگئی ہے''۔

حزب اختلاف کے ذرائع کے مطابق ''ہتھیاروں کی نئی کھیپ شمالی صوبے حلب ،جنوبی صوبے درعا اور وسطی/مغربی صوبے حمص میں باغی جنگجوؤں کو قدم جمانے اور موجودگی کو پختہ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی''۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے کچھ عرصہ قبل ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ اردن ،سعودی عرب ،ترکی اور قطر امریکا اور بعض مغربی حکومتوں کی مشاورت سے بڑے ہی خفیہ انداز میں شامی باغیوں کو مسلح کرنے کی مہم پر عمل پیرا ہیں اور گذشتہ چار ہفتے کے دوران اس میں بڑی تیزی آئی ہے تاکہ باغی جلد سے جلد دارالحکومت دمشق کو مفتوح کرسکیں اور بشارالاسد کا دھڑن تختہ ہوسکے۔

شامی حزب اختلاف ایک عرصے سے مغربی ممالک سے اسلحہ مہیا کرنے کا مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہے۔باغی جنگجوؤں کے پاس صدر بشارالاسد کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ہتھیار نہیں ہیں اور وہ ہلکے ہتھیاروں سے ہی شامی فوج سے نبرد آزما ہیں۔تاہم امریکا شامی باغیوں کو مسلح کرنے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔امریکی عہدے داروں کا یہ موقف رہا ہے کہ شام میں بھیجے جانے والے ہتھیار اسلامی جنگجوؤں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جو بعد میں ان کے لیے بڑے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔

ایک عرب عہدے دار اور دو فوجی ماہرین کے بیانات کے مطابق شامی باغیوں کو اردن کے راستے سے اسلحہ مہیا کیا جارہا ہے کیونکہ امریکا نے ترکی کے راستے سے شام میں اسلحہ پہنچانے پر اعتراض کیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ وہاں سے بھیجا جانے والا اسلحہ شام کے شمالی صوبوں میں برسرپیکار اسلام پسندوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں