مشرقِ وسطیٰ ۔ قطر علاقائی سیاست میں اثر و نفوذ کھونے لگا

سعودی عرب نے خطے میں اپنے اثرات پہلے سے بھی بہتر بنا لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عرب بہاریہ منظر نامے میں اسلام پسندوں کا حامی اہم خلیجی ملک قطر مشرق وسطی کی علاقائی سیاست میں اثرات کھونے لگا ہے، جبکہ سعودی عرب کا خطے میں اثر رسوخ پہلے سے بھی بڑھنے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ یہ صورت حال اس وقت واضع طور پر سامنے آئی ہے جب قطر کے طاقتور امیر شیخ حماد بن خلیفہ کی طرف سے گزشتہ ماہ اپنے صاحبزادے کے حق میں اقتدار سے دست برداری حاصل کر لی ہے اور بعد ازاں قطر کو مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی سیاست میں پے در پے دھجکوں کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کچھ عرصے سے قطر نے اپنے آپ کو ایک اہم علاقائی کھلاڑی کے طور پرپیش کرنا شروع کیا تھا، تاہم عرب دنیا میں بہاریہ تحریک کے نتیجے میں بعض جگھوں پر سیاسی و حکومتی اتھل پتھل ہونے کے بعد سعودی عرب خود کو نظریاتی مفادات سے بالاتر رکھتے ہوئے خطے کے ممالک میں استحکام کی کوششوں کیلئے ایک موثر اور متحرک کردار کے ساتھ سامنے آیا۔ اسی دوران قطر جس نے حالیہ برسون میں خطے میں اپنا عمل درآمد بڑھانے کی کوشش کی تھی اور اپنی حدود سے متجاوز ہو کر مصر میں اخوان المسلمون کی کھلِ عام سرپرستی شروع کردی تھی، کو عرب تجزیہ نگارعاید المنا کے بقول متعدد دھجکوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں گزشتہ ہفتے منتخب مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی اور شامی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ کے طور پر احمد آثی جاربہ کا جیت جانا بطور خاص اہم تھا۔ برطانیہ میں رائیل یونائٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ جوناتھن ایال کے مطابق خطے میں قطر کی سیاست مکمل ناکام ہو گئی ہے اور اب اسکی مشرق وسطی کی سفارتکاری تباہی کی طرف گامزن ہے ۔

مصری حکومت کے خاتمے ، شامی اپوزیشن اتحاد میں پسپائی کے علاوہ لیبیا میں بھی کچھ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ آید المنی کا خیال ہے کہ اب قطر اس کوشش میں ہے کہ اپنی سابقہ وابستگیوں اور وعدوں کو محدود کریں۔ قطر کی اس پسپائی پالیسی کے برعکس دیرینہ امریکی اتحادی سمجھا جانے والا سعودی عرب خطے میں دوبارہ اپنی پوزیشن بحال کرنے میں کامیاب نظر آتا ہے۔

سعودی عرب نے خلیجی دولت مند ملکوں کے ساتھ بھی اپنے روابط کو پہلے سے زیادہ متحرک کر لیا ہے اور شاہ عبداللہ دنیا کے کسی ملک کے پہلے حکمران ہیں جنہوں نے مصر کے عبوری صدر عدلی منصور کو سب سے پہلے مبارک باد کا پیغام بھیجا۔ نیز پانچ ارب ڈالر کی خطیر رقم بطورِ امداد مصر کو دینے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ایک طرف اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈائون شروع کر رکھا تھا تو دوسری طرف تین ارب ڈالر کا پیکج بھی پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

گلف ریسرچ سینٹر کے سربراہ عبدالعزیز الساگر نے سعودی عرب کے اس کردار کی تحسین کی ہے کہ سعودی عرب نظریاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عرب دنیا میں استحکام کیلئے کوشاں ہے۔ انکا یہ بھی ماننا ہے کہ سعودی عرب نے ابتدا اخوان المسلمون کی بھی امداد کی لیکن اخوان نے دانش مندانہ انداز میں حکومت اختیار نہیں کیا۔

ساگر کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان ہم آہنگی میں کوئی فرق نہیں آیا جسکی ایک دلیل یہ ہے کہ قطر کے خلیفہ شیخ حماد بن خلیفہ نے اپنے اقتدار کی دستبرداری سے چھ ماہ قبل سعودی عرب کو آگاہ کر دیا تھا اور سعودیہ نے اسکا خیر مقدم کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں