وادی گولان "گرم محاذ" بن سکتا ہے: صہیونی آرمی چیف

گولان کے محاذ کے لیے اسرائیلی فوج کی خصوصی یونٹ تشکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی مسلح افواج نے مقبوضہ وادی گولان کے محاذ کے لیے ریزرو فوج پرمشتمل ایک خصوصی یونٹ کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ اسپیشل فوجی یونٹ کے قیام کا مقصد شام میں جاری خانہ جنگی کو اسرائیل کے زیرتسلط وادی گولان میں منتقل ہونے سے روکنا ہے۔

اسرائیل کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار"ہارٹز" نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ گولان محاذ کے لیے نئی یونٹ کی تشکیل کا فیصلہ مسلح افواج کے سربراہ جنرل بینی گانٹزنے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا۔ اس یونٹ میں صرف ریزرو فوج کے اہلکاروں کو شامل کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق صہیونی آرمی چیف نے فوجی قیادت سے گفتگو کرتے ہوئے شام سے ملحقہ "گولان محاذ" کے گرم ہونے اور شام میں جاری خانہ جنگی کے گولان میں منتقل ہونے کے خدشات کا برملا اظہار کیا۔ جنرل گانٹز کے بہ قول " بشارالاسد کی حامی فوج اور جیش الحرکے درمیان جاری لڑائی کسی بھی وقت وادی گولان میں منتقل ہوسکتی ہے۔ ہمیں ایسے کسی بھی خطرے کی روک تھام کے لیے فوری پیش بندی کی ضرورت ہے تاکہ وادی گولان کو بدامنی سے محفوظ رکھا جاسکے"۔

خیال رہے کہ شام میں جاری لڑائی کے دوران پچھلے چند ماہ میں اسرائیلی زیرتسلط وادی گولان میں کئی مرتبہ راکٹ گرتے رہے ہیں، جن کے بارے میں مبینہ طورپر خیال کیا جاتا رہا ہے کہ انہیں شام سے داغا گیا تھا۔ ان راکٹ حملوں کےجواب میں مئی میں اسرائیلی فوج نے دمشق کے قریب سرکاری اسلحہ ڈپوؤں پرحملہ بھی کیا تھا۔ شام نے اسرائیلی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی دھمکی دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں