.

جیش الحرکا شامی فوج کے90 ٹینک تباہ کرنے کا دعویٰ

امریکا اور یورپ سےاسلحہ نہ ملنے کی شکایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشارالاسد رجیم کے خلاف برسرپیکار باغی فوج [جیش الحر] نے سرکاری فوج کے نوے ٹینک تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کارروائی میں جدید اسلحہ استعمال کیا گیا.

جیش الحر کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سلیم ادریس نے تسلیم کیا کہ باغیوں نے بعض ممالک سے ملنے والے جدید ہتھیاروں کو اسد نواز فوجیوں کے نوے ٹینک تباہ کرنے میں استعمال کیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ باغیوں کو مزید بھاری ہتھیار جلد حاصل ہو جائیں گے، تاہم انہوں نے ان ہتھیاروں کی نوعیت سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں۔

"العربیہ الحدث" سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل ادریس نے بتایا کہ دمشق اور حمص کے محاذوں پر باغی فوجیوں کو بشار الاسد نواز سرکاری فوج کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "جیش الحرکو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے لیکن کئی اہم راستوں پر سرکاری فوج کے کنٹرول کے باعث باغیوں تک اسلحہ پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ سرکاری فوج کا حصار توڑنے کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائیوں اور ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے"۔

ایک سوال پر جیش الحر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ "باغیوں کے بعض گروپ الگ الگ محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ انہیں باضابطہ طور پر آزاد فوج کا حصہ بن کرمنظم لڑائی میں حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جیش الحرکو جدید اسلحے سے لیس کرنے اور ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کی مُہم جیش الحرکے مختلف محاذوں پر لڑنے والی باغی قیادت کی منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے۔

جنرل سلیم ادریس نے باغیوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا کو اپنے خلاف استعمال ہونے کو روکیں اور اسلحہ اوردیگر حساس نوعیت کی تفصیلات کے بارے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس پرتفصیلات نہ بتائی جائیں۔ جیش الحر کے علاوہ سرکاری فوج کے خلاف لڑنے والے دیگر جنگجو گروپ بھی اپنی کارروائیوں کو منظم اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے انہیں خفیہ رکھیں تاکہ اسد نواز فوجیوں کو بھاری جانی ومالی نقصان سے دوچارکیا جا سکے۔

جیش الحر کے کمانڈر نےالزام عائد کیا کہ سرکاری فوج اورمیڈیا باغیوں کی صفوں میں انتشارپیدا کرنے کے لیے مکروہ پروپیگنڈہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ باغیوں کو ابھی تک امریکا اور یورپ کی جانب سے کسی قسم کا اسلحہ نہیں ملا، حربی وسائل کی کمی کے باوجود باغی اپنے محاذوں پر دفاع جاری رکھے ہوئے ہیں۔