.

جیش الحر کے کمانڈر کا قتل، باغیوں کی سپریم ملٹری کونسل کا اجلاس

ریاست اسلامی عراق نے کمال الحمامی کے قتل کی ذمے داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دمشق کے باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کی سپریم ملٹری کونسل کا آج جمعہ کو اجلاس ہورہا ہے جس میں جیش کے کمانڈر محمد کمال الحمامی کے قتل کے واقعہ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا جائے گا۔

القاعدہ سے وابستہ ایک گروپ نے گذشتہ روز کمال الحمامی کو قتل کردیا تھا۔حمامی ابو باسل اللذقنی کے نام سے معروف تھے اور وہ جیش الحر کی سپریم فوجی کونسل کے بھی رکن تھے۔

جیش الحر کے ایک ترجمان قاسم سعدالدین نے بتایا ہے کہ '' کمال حمامی ساحلی شہر للذاقیہ میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم ''ریاست اسلامی عراق'' کے عہدے داروں کے ساتھ اجلاس میں شریک تھے کہ اس دوران انھوں نے ابو باسل کو قتل کردیا''۔مقتول جنگی منصوبے پر بات چیت کے لیے ان کے پاس گئے تھے۔

ترجمان نے شام سے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ''ریاست اسلامی نے مجھے فون کر کے بتایا کہ انھوں نے ابو باسل کو قتل کردیا ہے۔انھوں نے اب سپریم ملٹری کونسل کے تمام ارکان کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے''۔

جیش الحر کے ترجمان لوئی المقداد نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہمیں ہر سطح پر ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ریاست اسلامی عراق حمامی کے قاتلوں کو ہمارے حوالے کرے تاکہ ہم انھیں انصاف کے کٹہرے میں لا سکیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''جیش الحر کی سپریم ملٹری کونسل کے چیف آف اسٹاف بریگیڈئیر جنرل سلیم ادریس ہمارے ہیرو اور شہید محمد کمال الحمامی کا سوگ منا رہے ہیں۔انھیں برائی کی طاقتوں نے قتل کیا ہے''۔

واضح رہے کہ جیش الحر کے یونٹ ریاست اسلامی عراق اور دوسرے اسلامی جنگجو گروپوں کے ساتھ مل کر شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف مزاحمتی جنگ لڑرہے ہیں لیکن شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپوں اور اعتدال پسند شامی جنگجو تنظیموں کے درمیان اختلافات پائے جارہے ہیں۔ماضی میں القاعدہ سے وابستہ گروپوں پر متعدد باغی جنگجوؤں کو قتل کرنے کے الزامات عاید کیے جاچکے ہیں۔

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کی جانب سے باغی جنگجوؤں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد اب امریکا بعض عرب ممالک کے ذریعے باغیوں کو اسلحہ اور ہلکے ہتھیار مہیا کررہا ہے۔تاہم کانگریس کی بعض کمیٹیاں شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کی مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ یہ ہتھیار القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اور وہ بعد میں ان کے لیے مسائل پیدا کرسکتی ہیں۔