.

شامی لڑائی میں 'کام' آنے والے حزب اللہ کے 03 جنگجو سپرد خاک

مقتولین حمص میں باغیوں کی گولیوں کا نشانہ بنے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے تین ارکان کو بیروت میں سپرد خاک کردیا گیا۔ تینوں کارکن مبینہ طور پر شام میں حمص کے محاذ پر باغیوں کے خلاف لڑائی میں مارے گئے۔

یاد رہے کہ صدر بشارالاسد کی حمایت میں 'کام' آنے والے حزب اللہ جنگجوؤں کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی تنظیم کے درجنوں کارکن اس جنگ میں 'داد شجاعت' دیتے ہوئے مارے جا چکے ہیں۔

ذرائع ابلاغ میں حالیہ چند دنوں سے یہ خبریں تواتر سے آ رہی تھیں کہ باغیوں کے زیرکنٹرول ملک کے دوسرے بڑے شہر حمص میں صدر بشارالاسد کی فوج کے ساتھ بڑی تعداد میں حزب اللہ کے جنگجو بھی جنگ لڑ رہے ہیں۔ برطانوی اخبار"انڈی پینڈینٹ" کے مطابق حزب اللہ کے ماہر جنگجو شام میں سرکاری فوج کے 80 ہزار اہلکاروں کو فنون حرب وضرب کی تربیت فراہم کرچکے ہیں۔

خود حزب اللہ کے متعدد اہم عہدیداروں کا ماننا ہے کہ شیعہ ملیشیا کے سیکڑوں جنگجو بشارالاسد کے خلاف جاری باغی تحریک ناکام بنانے کے لیے شام کے کئی شہروں میں باغیوں کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ حزب اللہ کے ایک عہدیدار نے مزید بتایا کہ ان کی تنظیم کے جنگجوؤں کے علاوہ ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار بھی حمص میں سرکاری فوج کے شانہ بہ شانہ لڑ رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ، شام میں مارے جانے والے اپنے جنگجوؤں کی ہلاکتوں کو صیغہ راز میں رکھنے کی پوری کوشش کرتی ہے۔

ملہوکین کی نمازجنازہ اور آخری رسومات خفیہ طریقے سے ادا کی جاتی ہیں تاہم پھر بھی مارے جانے والے حزب اللہ کارکنوں کی تصاویر اور ان سے متعلق معلومات میڈیا تک کسی نہ کسی شکل میں پہنچ جاتی ہیں۔ حمص کی حالیہ لڑائی میں مارے جانے والے جنگجوں کی تدفین کو بھی خفیہ رکھنےکی کوشش کی گئی تھی تاہم العربیہ نے ان کی آخری رسومات کے خبر اور تصاویر شائع کر دیں۔