.

مصر: اسلامی جماعتوں کی برطرف صدر کی بحالی کے لیے ریلی

اخوان کے مظاہرین کا منتخب صدر کا تختہ الٹنے پر آرمی کو چیلنج کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں نے ان کے حق میں ریلیاں نکالی ہیں اور انھوں نے منتخب صدر کی بحالی تک اپنی جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب ڈاکٹر مرسی کے مخالفین نے بھی ریلیاں نکالی ہیں اور انھوں نے مرسی حکومت کے خاتمے کو درست قرار دیا ہے۔

قاہرہ کے علاقے نصر سٹی میں واقع جامعہ مسجد رابعہ العدویہ کے باہر ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں افراد نے نماز جمعہ ادا کی اور ڈاکٹر مرسی کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا۔انھوں نے مصری پرچم اور قرآن مجید کے نسخے اٹھا رکھے تھے۔

اخوان المسلمون کے ایک سرکردہ لیڈر صفوت حجازی نے مسجد کے باہر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم مزاحمت جاری رکھیں گے۔ہم ایک یا دو ماہ تک یا پھر ایک یا دوسال تک سڑکوں پر موجود رہیں گے اور ہم اس وقت نہیں جائیں گے جب تک ہمارے صدر محمد مرسی کو بحال نہیں کردیا جاتا''۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ مرسی کو ان کے عہدے پر بحال کیا جائے ،فوری طور پر پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں اور قومی مصالحتی منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے''۔

مرسی کے ہزاروں حامی ان کی برطرفی کے بعد سے جامع مسجد رابعہ العدویہ کے باہر احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔وہ اب رمضان المبارک میں بھی وہیں سحری اور افطار کررہے ہیں۔

جامعہ القاہرہ کے باہر بھی ہزاروں افراد نے اجتماع منعقد کیا۔مصر میں برطرف صدر محمد مرسی کے حق اور مخالفت میں احتجاجی مظاہروں کے باوجود عبوری حکومت نے نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے مشاورت کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

متحارب مظاہرے

قاہرہ میں ایک جانب اگر صدر مرسی کے حامی مظاہرے کررہے ہیں تو دوسری جانب ان کے مخالفین بھی احتجاجی ریلیاں نکال رہے ہیں۔ آج انھوں نے دارالحکومت کے مشہور میدان التحریر میں اپنا اجتماع منعقد کیا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے اتحادیہ آصدارتی محل تک مارچ بھی کیا۔

صدر مرسی کے خلاف احتجاجی تحریک برپا کرنے والے باغی گروپ تمرد کے عہدے دار دعا خلیفہ نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ'' تیس جون کی مزاحمت کے تحفظ کے لیے ہماری موجودگی ضروری تھی''۔

برطرف صدر کے حامی اور مخالفین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف ریلیوں سے کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور اب تشدد کے واقعات میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

ادھر نہر سویز کے کنارے واقع شہر اسماعلیہ میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا ہے۔ جزیرہ نما سینا میں بھی منتخب صدر کی برطرفی کے بعد سے تشدد کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔جمعہ کی صبح مسلح افراد نے ایک چیک پوائنٹ پر راکٹ حملہ کیا ہے جس نتیجے میں ایک پولیس افسر مارا گیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سوموار کو پیش آئے تشدد کے بدترین واقعے کے بعد اخوان اور دوسری جماعتوں کے ساڑھے چھے سو کارکنان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان میں سے دو سو کے خلاف تشدد کی شہ دینے کے الزامات پر فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

مصری حکام نے اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع کی گرفتاری کا بھی حکم دیا ہے۔ان پر لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا الزام عاید کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں گذشتہ سوموار کو اخوان ہی کے پچاس سے زیادہ حامی مارے گئے تھے۔پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اخوان کے مرشدعام محمد بدیع اور ان کے نائب محمود عزت کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔

امریکا نے اخوان کے لیڈروں کی گرفتاریوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مصری فوج کی مصالحتی کوششوں کی عکاسی نہیں ہوتی ہے۔ درایں اثناء جرمن حکومت نے برطرف صدر محمد مرسی کی حراست سے رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔مصر کی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق انھیں ان کے تحفظ کے پیش نظر ایک محفوظ جگہ پر قید رکھا جارہا ہے اور ابھی تک ان پر کوئی فرد جرم عاید نہیں گئی ہے۔