.

معزول صدر کے جیل سے فرار کی تحقیقات کا فیصلہ

جیل سے فرار میں حماس نے مبینہ طور پر مرسی کو مدد دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پراسیکیوٹرز ان الزامات کی چھان بین کریں گے کہ مصر میں سن 2011ء میں حسنی مبارک کے خلاف آنے والے انقلاب کے وقت محمد مرسی فلسطینی مزاحمتی تنظیم 'حماس' کی مدد سے جیل توڑ کر فرار ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق چیف پراسیکیوٹر ہشام برکت کو اس سلسلے میں نہر سوئز کے قریب واقع شہر اسماعیلیہ کی ایک عدالت کی جانب سے ایسی درخواستیں ارسال کی گئی ہیں جن کی بنیاد پر یہ تفتیش کی جائے گی۔ ایک اور مصری عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ریاستی سلامتی سے متعلق پراسیکیوٹرز جیل سے فرار کے سلسلے میں ان الزامات کے تحت محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے 30 دیگر رہنماؤں کے خلاف چھان بین کریں گے۔

مصر میں پہلی مرتبہ آزادانہ انتخابات کے بعد برسراقتدار آنے والے محمد مرسی کو گزشتہ ہفتے فوج نے وسیع تر عوامی مظاہروں کے بعد برطرف کر دیا تھا۔ تاہم صدر مرسی کے جیل سے فرار ہونے سے متعلق یہ باتیں مصری میڈیا پر مرسی کے ایک سالہ دور اقتدار میں تواتر سے شائع ہوتی رہی ہیں۔ اپوزیشن اور عدلیہ دونوں کہتی رہیں ہیں کہ اگر اس سلسلے میں حماس کی اس کارروائی کا ثبوت مل گیا، تو محمد مرسی پر غداری کا مقدمہ بھی چلایا جا سکتا ہے۔ تاہم صدر مرسی کی برطرفی کے بعد اب یہ معاملہ مصر میں سنجیدہ بحث کا موضوع بن چکا ہے۔

خیال رہے کہ صدر مرسی کے اقتدار میں آنے کا ایک برس مکمل ہونے پر کئی ملین افراد نے دارالحکومت قاہرہ سمیت ملک بھر میں بڑے مظاہرے کیے تھے، جن کے بعد ملکی فوج نے صدر مرسی کو عہدہ صدارت سے برطرف کرنے اور ملک کی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کو عبوری صدر بنانے کا اعلان کر دیا تھا۔ برطرفی کے بعد سے اب تک محمد مرسی مصری فوج کی حراست میں ہیں۔ گزشتہ روز وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ فی الحال محمد مرسی پر کسی الزام کے تحت کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے، تاہم انہیں ان کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے جنوری 2011ء میں قاہرہ کے شمال مغرب میں واقع ایک جیل سے محمد مرسی کو جیل توڑ کر فرار ہونے میں مدد دینے کے حوالے سے اپنے خلاف الزامات کی تردید کی ہے۔ اس سلسلے میں محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مرسی کو مقامی افراد نے قید خانے سے آزاد کرایا تھا۔