.

یو اے ای میں 'مرس' وائرس کا پہلا کیس منظرعام پرآ گیا

عالمی ادارہ صحت نے وائرس پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے حکام نے جمعہ کو ایک بیاسی سالہ شخص کے 'مرس' وائرس کا شکار ہونے کی اطلاع دی ہے اور یہ خلیجی ریاست میں اس وائرس سے متاثرہ پہلا کیس ہے۔

اس اماراتی شہری کا دارالحکومت ابوظہبی کے ایک اسپتال میں علاج کیا جارہا ہے۔ وہ کینسر کے مرض میں بھی مبتلا بتایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مئی میں فرانس نے ایک پینسٹھ سالہ شخص کو مرس کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ اس شخص نے دبئی میں چھٹیاں گزاری تھیں۔

طبی ماہرین ابھی تک 'مرس' یا مڈل ایسٹ ریسپائٹری سینڈروم کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وائرس سے پڑوسی ملک سعودی عرب میں سب سے زیادہ پینسٹھ کیس سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے اڑتیس افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

عالمی ادارہ صحت نے گذشتہ ہفتے 'مرس' وائرس پر غور کے لیے ماہرین کا ہنگامی اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا۔ اب اکتوبر میں حج کے موسم میں اس وائرس کے پھیلنے کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

تاہم عالمی ادارہ صحت نے ابھی تک مرس وائرس کے حوالے سے کوئی سفری ہدایت نامہ جاری نہیں کیا ہے۔البتہ اس کا کہنا ہے کہ تنظیم کے رکن ممالک سانس کی غیرمعمولی تکلیف کی صورت میں متاثرہ شخص کی نگرانی کریں۔ اس وائرس کا شکار شخص کے پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اور اس کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کا سب سے مہلک اثر یہ ہوتا ہے کہ متاثرہ شخص کے گردے ناکارہ ہوجاتے ہیں۔